World
اسرائیل لبنان مذاکرات چار اگست روم میں ہوں گے
امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے مابین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا نیا دور چار اگست کو روم میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ تمام مذاکرات امریکی ثالثی کے تحت منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
واشنگٹن (نیزورا نیوز اردو) امریکہ کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور سرحدی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا ایک نیا دور آئندہ ماہ کی چار تاریخ کو اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد کیا جائے گا۔ اس اہم سفارتی پیش رفت کا مقصد دونوںممالک کے درمیان دیرینہ تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے اس حساس خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام مذاکرات اور تکنیکی سیشنز امریکی ثالثی کے تحت انجام پائیں گے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ واشنگٹن خطے میں مزید محاذ آرائی کو روکنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں فریقین اس سے قبل بھی پس پردہ رابطوں میں رہے ہیں، تاہم اب روم میں ہونے والی یہ باضابطہ بات چیت انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے جہاں بنیادی تنازعات پر کھل کر تبادلہ خیال ہوگا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس ملاقات سے فریقین کے مابین بداتمادی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ایک طویل مدتی سیز فائر یا فریم ورک معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ فریقین کی جانب سے ابھی تک ان مذاکرات کے ایجنڈے کے تمام تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، لیکن امریکی حکام اس حوالے سے کافی پرامید دکھائی دیتے ہیں کہ دونوں ممالک کے وفود خطے کے وسیع تر مفاد میں لچک کا مظاہرہ کریں گے۔ آنے والے دنوں میں روم میں ہونے والی یہ بیٹھک مشرق وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کے تناظر میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جس پر بین الاقوامی برادری کی بھی گہری نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔