Pakistan
صدر زرداری کی جانب سے 355 سول اعزازات کا اعلان
صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم آزادی کے موقع پر سائنس، طب، فنون اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی 355 شخصیات کے لیے سول اعزازات کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعزازات باضابطہ طور پر یومِ پاکستان یعنی 23 مارچ 2025 کو ایک خصوصی تقریب کے دوران تقسیم کیے جائیں گے۔
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر ملکی ترقی، سائنس، تعلیم، فنون لطیفہ، طب اور عوامی خدمات کے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دینے والی 355 ممتاز شخصیات کے لیے قومی سول اعزازات کی منظوری دی ہے۔ ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ان اعزازات کا اعلان 14 اگست کو کیا گیا ہے جبکہ انہیں باضابطہ طور پر 23 مارچ 2025 کو یومِ پاکستان کے موقع پر ایک پروقار تقریب میں تقسیم کیا جائے گا۔ صدر مملکت نے ان اعزازات کے علاوہ مسلح افواج کے 1,172 اہلکاروں کے لیے بھی ملٹری ایوارڈز کی منظوری دی ہے جو ان کی مادرِ وطن کے لیے خدمات اور بہادری کے اعتراف میں دیے جا رہے ہیں۔
اعزازات کی اس فہرست میں غیر ملکی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے خدمات انجام دیں۔ متحدہ عرب امارات کی شیخہ فاطمہ بنت مبارک کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز 'نشانِ پاکستان' دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، چھ غیر ملکی شخصیات کو 'ہلالِ پاکستان' سے نوازا جائے گا۔ فہرست میں ایسے ماہرینِ طب کا بھی ذکر موجود ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے وقت بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کا علاج کیا تھا، جن میں ڈاکٹر جال رتن جی پٹیل اور ڈاکٹر جال ڈابو شامل ہیں، انہیں دہائیوں بعد اعزاز سے نوازا جا رہا ہے۔
اعزازات کی دیگر کیٹیگریز میں 'ہلالِ امتیاز' اور 'ستارہِ امتیاز' شامل ہیں، جو مختلف شعبہ جات میں نامور شخصیات کو دی جا رہے ہیں۔ ان میں سائنسدان، ماہرینِ تعلیم، نامور ڈاکٹرز، براڈکاسٹرز اور لکھاری شامل ہیں۔ خاص طور پر ان شخصیات کو بھی یاد رکھا گیا ہے جنہوں نے طب کے شعبے میں تحقیق اور علاج معالجے میں اپنی زندگیاں وقف کیں، جن میں آنجہانی پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی اور ڈاکٹر نسیم صلاح الدین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، شعبہ صحافت اور آرٹس سے وابستہ نمایاں شخصیات جیسے اداکار، گلوکار اور مصور بھی اس فہرست کا حصہ ہیں، جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ملک کا نام روشن کیا۔
انتظامی اور سرکاری امور میں خدمات سرانجام دینے والے افسران کے علاوہ 'تمغہِ امتیاز' کے زمرے میں بڑی تعداد میں ماہرین کو شامل کیا گیا ہے، جس میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ وی سی صاحبان اور ماہرینِ انجینئرنگ شامل ہیں۔ وفاقی کانسٹیبلری کے شہداء کو بھی بہادری کے ایوارڈز سے نوازا گیا ہے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ اعزازات نہ صرف ان افراد کی انفرادی کامیابی کا اعتراف ہیں بلکہ یہ ان شعبوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بھی بنیں گے جو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔