LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس: کراچی میں پولیس کی غفلت اور انصاف کی دہائی

News Image
کراچی کے نوجوان کاروباری شخصیت میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت نے شہر میں خوف اور بے یقینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں غفلت اور لاش پر تشدد کے نشانات پائے جانے کے بعد اب قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔
تیرہ اگست 2026 کی رات کراچی میں ایک باپ ٹیلی ویژن پر انصاف کی دہائی دیتا دکھائی دیا، جو کہ ایک ایسے نوجوان تاجر میر رضا علی کا والد تھا جس کی زندگی کا سفر انتہائی المناک طریقے سے ختم کر دیا گیا۔ 25 سالہ میر رضا علی، جو اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے والا ایک کامیاب کاروباری نوجوان تھا، اپنی زندگی کے آخری سفر پر روانہ ہوا اور پھر کبھی گھر واپس نہ آیا۔ اس واقعے کی ہولناک نوعیت، پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات میں سنگین غفلت اور حکام کا غیر سنجیدہ رویہ یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ کراچی کے والدین کیوں اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ میر رضا علی کا قتل صرف ایک خاندان کا ذاتی المیہ نہیں، بلکہ یہ کراچی کے بگڑتے ہوئے سماجی اور انتظامی حالات کی ایک تلخ عکاسی ہے۔ میر رضا علی ایک خود ساختہ نوجوان تھا جس نے 18 سال کی عمر میں صفر سے کاروبار شروع کیا اور اسے بلندیوں تک پہنچایا۔ اس نے نہ صرف خود کامیابی حاصل کی بلکہ درجنوں افراد کو روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے۔ اس کے ساتھی ملازمین، جو آج بھی اس کے حسنِ اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت کے قصے سناتے ہیں، انصاف کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، تاہم ڈاکٹر سمیعہ سید اور دیگر ماہرین کی جانب سے پوسٹ مارٹم میں سقم نشاندہی کے بعد معاملہ بدل گیا۔ دوسرے پوسٹ مارٹم میں جسم پر تشدد کے متعدد نشانات اور گولی لگنے کے زخم پائے گئے، جس کے بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ تبدیلی خود پولیس کی ابتدائی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس کیس کا دوسرا اہم پہلو کراچی کے انتظامی نظام اور پولیس کی کارکردگی میں موجود خلا ہے۔ جب تک لواحقین نے احتجاج نہ کیا، تب تک کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کراچی میں شہری کس قدر تنہا ہیں اور انصاف کا حصول کتنا کٹھن عمل ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں کی تبدیلی، طبی بورڈز کی رپورٹس میں تضاد، اور حکام کی جانب سے مبہم بیانات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شہر کا ادارہ جاتی ڈھانچہ کس قدر کمزور ہو چکا ہے۔ بااثر افراد کا احتساب نہ ہونا اور غفلت کے مرتکب افسران کو تحفظ ملنا اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو اس کیس سے عام شہریوں کو ملنے والا پیغام ہے۔ کراچی کے مکین پہلے ہی ایک دفاعی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں لوگ رات کو سڑکوں پر نکلتے ہیں، ریسٹورنٹس آباد ہیں، لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کی دکان لوٹ لی جائے یا گھر کا کوئی فرد لاپتہ ہو جائے، تو شہری خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ میر رضا علی کا کیس ان تمام خدشات کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ کراچی میں انصاف محض ایک خواب ہے۔ اگر حکام نے اس کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا تو یہ معاشرے میں مزید مایوسی اور عدم تحفظ کو جنم دے گا۔