LIVE
Loading Breaking News...

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا نیا عسکری اتحاد

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے باہمی دفاع کے لیے 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون کے آرٹیکل 51 کے تحت اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔
سات اگست 2026 کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' (MJDA) کے نام سے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی قوت کو مستحکم کرنا ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر ایک اجتماعی عسکری عزم ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 پر مبنی ہے، جو رکن ممالک کو انفرادی یا اجتماعی خود دفاع کا حق دیتا ہے۔ ماضی میں بھی ان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون موجود رہا ہے، جن میں ترکی کی جانب سے پاکستان کو جنگی جہازوں کی فراہمی، پاکستان کی جانب سے ترکی کو تربیتی طیاروں کی معاونت اور سعودی عرب کی جانب سے ترک ڈرونز کی خریداری شامل ہے۔ اس معاہدے کے جغرافیائی اور سیاسی اثرات پر ماہرین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ جہاں یہ معاہدہ پاکستان کے لیے سعودی عرب اور جی سی سی ممالک سے معاشی اور دفاعی حمایت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، وہیں کئی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان اپنی جوہری چھتری کو اس معاہدے کا حصہ بنائے گا یا نہیں، جس پر پاکستان کا موقف واضح ہے کہ ایسی کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔ مزید برآں، ترکی کے سلامتی مفادات، جو اسرائیل یا شام و عراق میں کرد باغیوں سے جڑے ہیں، میں پاکستان کس حد تک کردار ادا کر سکتا ہے، یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اسی طرح، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی ضمانتیں کاغذ پر تو ٹھوس معلوم ہوتی ہیں، لیکن عملی میدان میں، خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ کسی کشیدگی کی صورت میں، یہ تعاون کس نوعیت کا ہوگا، اس پر ابہام موجود ہے۔ خطے کی بدلتی صورتحال میں، یہ معاہدہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی توازن قائم کرنے کا متقاضی بناتا ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد اور پاکستان میں موجود فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ کسی بھی غیر متوقع تنازع کی صورت میں، پاکستان کے لیے اپنے مغربی محاذ کو محفوظ رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ معاہدہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ محاذ آرائی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل کے ہندوستان کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات ہیں۔ اس معاہدے کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک عملی طور پر ایک دوسرے کی دفاعی ضروریات کو کس طرح پورا کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو باہمی دفاعی معاہدوں کی اتنی ہی ضرورت تھی، تو چین کے ساتھ اس نوعیت کا باضابطہ معاہدہ زیادہ ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہیے تھا جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اسٹریٹجک اتحادی ہے۔