Business
بھارت میں مالیاتی آزادی کا نیا دور: سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت
ایچ ڈی ایف سی اے ایم سی کے سی ای او نونیت منوٹ کے مطابق بھارتی عوام کیپیٹل مارکیٹ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے مالی خود مختاری حاصل کر رہے ہیں۔ میوچل فنڈز کے اثاثوں میں ریکارڈ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عام سرمایہ کار اب معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے۔
بھارت نے سن 1947 میں سیاسی آزادی حاصل کی تھی، لیکن اب ملک ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں توجہ 'مالیاتی آزادی' پر مرکوز ہے۔ ایچ ڈی ایف سی اے ایم سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او نونیت منوٹ کا کہنا ہے کہ بھارتی گھرانے اب سرمایہ کاری اور جدید ڈیجیٹل ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مالی حالت کو بہتر بنا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض ایک معاشی رجحان نہیں بلکہ ایک بڑی سماجی تحریک ہے جو متوسط طبقے کو معاشی طور پر مستحکم کر رہی ہے۔ کیپیٹل مارکیٹ تک آسان رسائی اور ٹیکنالوجی کے امتزاج نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑی طاقت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہے، جس میں یو پی آئی (UPI) جیسی ٹیکنالوجیز نے ادائیگیوں کے نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ جب ادائیگیوں کا نظام سہل ہوتا ہے، تو عوام کی بچت کرنے اور اسے سرمایہ کاری میں بدلنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ نونیت منوٹ کے مطابق، میوچل فنڈز کے اثاثے 82 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب عام شہری بینک اکاؤنٹس سے نکل کر براہ راست ملکی معیشت کے پہیے کو متحرک کرنے والی صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سسٹمیٹک انویسٹمنٹ پلانز (SIP) نے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک محفوظ راستہ ہموار کیا ہے۔
بھارتی سرمایہ کاروں کا یہ نیا اعتماد ملکی معیشت کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہو رہا ہے۔ ماضی میں سرمایہ کاری صرف امیر طبقے تک محدود سمجھی جاتی تھی، لیکن اب ٹیکنالوجی اور بہتر آگاہی کی بدولت دیہی اور نیم شہری علاقوں سے بھی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ 'مالیاتی آزادی' کا خواب اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے کیونکہ لوگ طویل مدتی اہداف کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے لوگ مالیاتی تعلیم کی طرف مائل ہو رہے ہیں، بھارت کا شمار دنیا کی ان ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہو رہا ہے جہاں گھریلو سرمایہ کاری کی بنیاد بہت مضبوط ہے۔
آخر میں، یہ سفر سیاسی آزادی کے بعد ایک طویل المدتی معاشی استحکام کی نوید ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر معاشی اتار چڑھاؤ جاری ہے، لیکن بھارتی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور حکومتی سطح پر فراہم کردہ ڈیجیٹل سہولیات اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ آنے والے برسوں میں بھارت مالیاتی لحاظ سے مزید خود کفیل ہوگا۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو نہ صرف انفرادی خوشحالی لائے گا بلکہ پورے ملک کو ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر ابھارنے میں مددگار ثابت ہوگا۔