LIVE
Loading Breaking News...

چاند کے مشن کے لیے ہارڈ ویئر کی جانچ: ناسا اور نارتھروپ گرومین کا نیا اقدام

News Image
نارتھروپ گرومین ناسا کے گیٹ وے اسٹیشن کے پرانے ہارڈ ویئر کو چاند کے انتہائی سرد ماحول میں ٹیسٹ کرنے کے لیے دوبارہ استعمال کر رہی ہے۔ یہ ٹیسٹ 2028 میں شیڈولڈ انسانی مشن سے قبل خلائی آلات کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
چاند کا قطب جنوبی ایک ایسا خطہ ہے جہاں درجہ حرارت منفی 200 ڈگری سیلسیس سے بھی نیچے گر سکتا ہے، اور سورج کی روشنی نہ ہونے کے باعث یہاں طویل عرصے تک تاریکی چھائی رہتی ہے۔ ایسے سخت ماحول میں عام الیکٹرانکس کا زندہ رہنا اور کام کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسی چیلنج کو مدنظر رکھتے ہوئے نارتھروپ گرومین کمپنی نے ناسا کے منسوخ شدہ 'گیٹ وے اسٹیشن' کے لیے تیار کردہ ہارڈ ویئر کو دوبارہ استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ چاند کی سطح پر بھیجے جانے والے آلات اس انتہائی سرد موسم میں کس حد تک کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اقدامات 2028 میں متوقع 'آرٹیمس 4' مشن کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ناسا کا ہدف ہے کہ چاند کے قطب جنوبی پر انسانی قدم رکھوائے جائیں، تاہم اس سے قبل سائنسی آلات اور خلابازوں کی زندگی بچانے والے نظاموں کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ گیٹ وے کے لیے تیار کیے گئے پرزہ جات اگرچہ اب پرانے تصور کیے جاتے ہیں، لیکن ان کی ساخت ایسی ہے جو خلائی ماحول کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ان کا استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا الیکٹرانک سسٹمز چاند کی طویل راتوں اور شدید سردی میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ ناسا کی جانب سے ابھی تک 'ہیلو' (HALO) ماڈیول کے حتمی استعمال یا اس کے دوبارہ استعمال کے منصوبے پر کوئی حتمی مہر نہیں لگائی گئی ہے، لیکن نارتھروپ گرومین کی یہ کوششیں خلائی ٹیکنالوجی میں ایک نئی سمت فراہم کر رہی ہیں۔ ان ٹیسٹ کے نتائج سے یہ طے پائے گا کہ آیا موجودہ ٹیکنالوجی چاند کے قطب جنوبی پر طویل قیام کے لیے کافی ہے یا اس میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ 2028 کے آرٹیمس مشن کے لیے وقت کم ہے اور ایسے میں یہ پرانا ہارڈ ویئر سائنسی تحقیق اور خلائی سفر کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق چاند کے قطب جنوبی کی کھوج صرف انسانی دلچسپی نہیں بلکہ مستقبل کے گہرے خلائی مشنز کے لیے ایک تجربہ گاہ ہے۔ اگر یہ ہارڈ ویئر ٹیسٹ کامیاب رہتے ہیں، تو یہ مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں پر جانے والے مشنز کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوں گے۔ فی الحال پوری دنیا کی نظریں ناسا کے اس پروجیکٹ پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ نہ صرف چاند پر انسانی موجودگی کو یقینی بنائے گا بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے سنگ میل بھی عبور کرے گا۔