LIVE
Loading Breaking News...

آئی سی پی سی کی کارکردگی: وفاقی منصوبوں میں 385 ارب سے زائد کی بچت

News Image
انڈیپینڈنٹ کرپٹ پریکٹسز کمیشن (آئی سی پی سی) نے 2023 سے جون 2026 کے دوران اربوں روپے کے قومی منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے خطیر رقم بچائی ہے۔ اس عمل سے وفاقی حکومت کو مالی بدعنوانیوں کو روکنے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انڈیپینڈنٹ کرپٹ پریکٹسز اینڈ ادر ریلیٹڈ آفنس کمیشن (آئی سی پی سی) نے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے سرکاری منصوبوں میں شفافیت اور مالی احتساب کے حوالے سے اپنی کارکردگی کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ کمیشن کے مطابق، سال 2023 سے جون 2026 کے درمیان ملک بھر میں جاری 4,582 سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی سخت نگرانی کی گئی۔ ان منصوبوں کی کل مالیت 22.53 ٹریلین نائرا سے زائد بتائی گئی ہے، جو کہ ملکی معیشت میں ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ اس نگرانی کا بنیادی مقصد ان منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانی، فنڈز کے غلط استعمال اور تاخیر کو روکنا تھا تاکہ عوام کو ان کا جائز حق مل سکے۔ اس آپریشنل مانیٹرنگ کے نتیجے میں آئی سی پی سی نے وفاقی حکومت کے خزانے کو 385.62 ارب نائرا کی بچت کرائی ہے۔ یہ رقم ان غیر قانونی کٹوتیوں اور منصوبوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے حاصل ہوئی ہے جن کی بروقت نشاندہی کمیشن نے کی۔ آئی سی پی سی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرکاری وسائل کے ضیاع کو نہ صرف روکا گیا ہے بلکہ ٹھیکیداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان احتساب کا عمل بھی تیز ہوا ہے۔ یہ بچت حکومت کے لیے ایسے وقت میں بہت اہم ہے جب قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے اور ترقیاتی کاموں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، آئی سی پی سی نے واضح کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے منصوبوں کی کڑی نگرانی جاری رکھے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی فنڈز صرف عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر ہی خرچ ہوں۔ کمیشن کا یہ اقدام اس بات کا عکاس ہے کہ اگر شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے تو ملک کے مالیاتی نظام میں بڑی اصلاحات ممکن ہیں۔ اس کامیاب مانیٹرنگ کو ملک کے اندر ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے سرکاری شعبے میں بدعنوانی کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اس پوری مہم کے دوران ٹیکنالوجی اور فیلڈ وزٹس کے امتزاج کا استعمال کیا گیا، جس سے تمام ڈیٹا کو بروقت اکٹھا کرنا اور بے قاعدگیوں کو پکڑنا ممکن ہوا۔ آئی سی پی سی نے مزید کہا کہ وہ آنے والے مہینوں میں مزید منصوبوں کی جانچ پڑتال کرے گی تاکہ احتساب کے عمل کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور قومی اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔