Business
بھارت کا الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل: نکھل کامتھ کا چینی ماہرین سے اہم مکالمہ
مشہور کاروباری شخصیت نکھل کامتھ نے چینی ماہرین کے ساتھ ایک مباحثے میں بھارت کے لیے الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹری ٹیکنالوجی میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے موضوع پر بات چیت کی۔ اس گفتگو میں بیٹریوں کی حفاظت اور نئی ٹیکنالوجیز کے مستقبل پر اہم خدشات اور امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بھارت کے معروف کاروباری شخصیت اور زیرودھا کے بانی نکھل کامتھ نے حال ہی میں چین کے بیٹری ماہرین کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو کی ہے جس میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا بھارت کو اپنی توانائی کی منتقلی اور معاشی ترقی کے لیے الیکٹرک گاڑیاں (ای وی) بنانے پر توجہ دینی چاہیے یا پھر بیٹریوں کی تیاری کے شعبے کو ترجیح دینی چاہیے۔ یہ بحث اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور پالیسی ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مقامی صنعت کو کیسے مضبوط کیا جائے۔
اس گفتگو کے دوران چینی ماہرین نے بیٹری ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جس میں ایل ایف پی (LFP) بیٹریوں سے وابستہ حفاظتی خدشات سر فہرست رہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایل ایف پی بیٹریاں لاگت کے لحاظ سے کفایت شعار ہیں، تاہم ان کی کارکردگی اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید تکنیکی بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بحث میں سوڈیم آئن اور نکل پر مبنی بیٹری ٹیکنالوجیز کے ممکنہ کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو مستقبل میں لیتھیم آئن بیٹریوں کا متبادل ثابت ہو سکتی ہیں۔
نکھل کامتھ نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو اپنی جغرافیائی اور معاشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ چینی ماہرین کا مشورہ ہے کہ بیٹریوں کی سپلائی چین پر عبور حاصل کرنا طویل مدت میں گاڑیوں کی اسمبلی لائن سے زیادہ منافع بخش اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت بیٹریوں کی ٹیکنالوجی میں خود انحصار بن جاتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنی مارکیٹ کی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ عالمی برآمدات میں بھی اپنا حصہ ڈال سکے گا۔
آخر میں، یہ مباحثہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب صرف گاڑیوں کے ڈیزائن تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دارومدار بیٹری سیل مینوفیکچرنگ کی ٹیکنالوجی پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت صحیح وقت پر صحیح ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے تو یہ ملک عالمی سطح پر ایک بڑا بیٹری ہب بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اور نجی شعبے میں اس بحث کے نتائج کو کیسے عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔