LIVE
Loading Breaking News...

فلاک سیفٹی نے نگرانی کے نظام میں سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا

News Image
امریکہ میں نمبر پلیٹ ٹریکنگ کا بڑا نیٹ ورک چلانے والی کمپنی فلاک سیفٹی نے پولیس اہلکاروں کی جانب سے ڈیٹا کے غلط استعمال کی شکایات کے بعد نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی اب ڈیٹا اسٹوریج کی مدت کو 30 دن سے کم کر کے صرف 7 دن تک محدود کر رہی ہے۔
امریکہ بھر میں نمبر پلیٹ ٹریکنگ اور نگرانی کے کیمروں کا وسیع نیٹ ورک فراہم کرنے والی معروف کمپنی 'فلاک سیفٹی' (Flock Safety) نے حال ہی میں اپنی پرائیویسی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کو شدید عوامی تنقید اور الزامات کا سامنا تھا کہ اس کے سسٹم میں موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے کچھ پولیس اہلکار اسے ذاتی مقاصد اور شہریوں کی جاسوسی کے لیے غلط استعمال کر رہے تھے۔ ان سنگین الزامات نے کمپنی کی ساکھ کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں فلاک سیفٹی نے احتساب اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات (Guardrails) کا نیا فریم ورک متعارف کروایا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت کمپنی نے سب سے اہم تبدیلی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے دورانیے (Retention Period) میں کی ہے۔ اب تک یہ ڈیٹا 30 دنوں تک سرورز پر محفوظ رکھا جاتا تھا، لیکن اب اسے کم کر کے صرف 7 دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ڈیٹا کا غلط استعمال کم سے کم ہو اور اگر کوئی غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اسے طویل عرصے کا ڈیٹا دستیاب نہ ہو۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ ایک ہفتے کا دورانیہ تفتیشی مقاصد کے لیے کافی ہے، جبکہ طویل مدتی اسٹوریج سے پرائیویسی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فلاک سیفٹی نے اپنی ٹیکنالوجی میں 'مقصد پر مبنی فلٹرنگ' کا فیچر بھی شامل کیا ہے۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب صرف انہی کیسز یا ڈیٹا تک رسائی ممکن ہوگی جو کسی مخصوص تفتیش یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے جائز کام سے متعلق ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس اہلکار بغیر کسی معقول وجہ کے تمام گاڑیوں یا شہریوں کا ڈیٹا نہیں دیکھ سکیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیچر شفافیت کو یقینی بنانے اور انسانی غلطیوں یا بدنیتی پر مبنی اقدامات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ کمپنی نے اپنے بلاگ پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ وہ شہریوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کی سکیورٹی پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگرچہ یہ کیمرے عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے، لیکن ان کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے سخت ضوابط کا نفاذ اب ناگزیر ہو چکا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلاک کا یہ قدم ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پرائیویسی کے تقاضوں کو پورا کیا جاتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تبدیلیاں واقعی جاسوسی اور ڈیٹا کے ناجائز استعمال کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔