Education
کنساس میں اسکولوں کے دوران موبائل فون پر پابندی کا نفاذ
ریاست کنساس کے اسکولوں میں ایک متنازعہ نئی پالیسی کا نفاذ کیا گیا ہے جس کے تحت طلباء کو پورا تعلیمی دن اپنے موبائل فونز مقفل ڈبوں میں رکھنے ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد کلاس رومز میں تعلیمی توجہ کو بہتر بنانا اور ڈیوائسز کے استعمال سے ہونے والی خلل کو روکنا ہے۔
ریاست کنساس کے تعلیمی اداروں میں ایک اہم اور متنازعہ تبدیلی کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت طلباء کو اب پورا اسکول وقت اپنے موبائل فونز سے دور رہنا پڑے گا۔ ریاست کی ڈیموکریٹک گورنر لورا کیلی کی جانب سے مارچ میں دستخط کیے گئے قانون کے بعد اب نئے تعلیمی سال سے اس پالیسی کا عملی نفاذ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق، طلباء اسکول میں داخل ہوتے وقت اپنے موبائل فونز ایک مخصوص لاکنگ سسٹم یا مقفل ڈبوں میں رکھنے کے پابند ہوں گے، اور انہیں چھٹی کے وقت تک ان فونز تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم کلاس رومز میں تعلیمی ماحول کو پرسکون بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اس پالیسی پر والدین، اساتذہ اور طلباء کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب اساتذہ کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے طلباء کی توجہ بٹنے کا عمل کم ہوگا اور وہ اپنے اسباق پر زیادہ بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کر سکیں گے، جس سے مجموعی تعلیمی نتائج میں بہتری آئے گی۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کلاس کے دوران مسلسل نوٹیفکیشنز نے طلباء کی سیکھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب کچھ والدین کا مؤقف ہے کہ ہنگامی صورتحال میں اپنے بچوں سے رابطہ نہ کر پانا شدید تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ریاستی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ قانون طلباء کو ڈیجیٹل خلفشار سے بچانے کے لیے ایک 'کنگ فنگر' کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں والدین اسکول کے مرکزی دفتر کے ذریعے اپنے بچوں سے رابطہ کر سکیں گے۔ اس پالیسی کو لاگو کرنے والے اضلاع کا دعویٰ ہے کہ پہلے ہی تجرباتی مراحل میں طلباء کے رویوں میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے اور کلاس رومز میں باہمی گفتگو کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
اس قانون کی حمایت اور مخالفت کے درمیان بحث جاری ہے، لیکن کنساس کا یہ اقدام امریکا کے دیگر تعلیمی اضلاع کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک پابندی نہیں بلکہ اسکولوں میں 'ٹیکنالوجی فری' زون بنانے کی ایک کوشش ہے تاکہ طلباء اپنی تعلیمی اور سماجی زندگی میں توازن پیدا کر سکیں۔ آنے والے مہینوں میں اس پالیسی کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ آیا یہ اقدام طویل مدتی طور پر کارگر ثابت ہوتا ہے یا اس میں نرمی لانے کی ضرورت پیش آئے گی۔