Technology
ایئر نیوزی لینڈ کی برقی ہوابازی کی جانب پیش قدمی، بڑے الیکٹرک طیاروں پر غور
ایئر نیوزی لینڈ نے الیا الیکٹرک طیارے کے ساتھ ملک کی پہلی آل الیکٹرک انسٹرومنٹ فلائٹ مکمل کر کے ہوابازی کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ایئر لائن انتظامیہ اب بڑے سائز کے برقی طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ایئر نیوزی لینڈ نے حال ہی میں 'الیا' (Alia) الیکٹرک طیارے کے کامیاب آزمائشی مراحل مکمل کرنے کے بعد ہوابازی کی صنعت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ رواں برس کے اوائل میں اس طیارے نے ملک کی پہلی مکمل برقی 'انسٹرومنٹ فلائٹ رولز' (IFR) آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا، جس کے دوران اس نے 12 مختلف ہوائی اڈوں کا دورہ کیا۔ یہ تجربہ نہ صرف تکنیکی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی تھی بلکہ اس نے مستقبل کے لیے پائیدار ہوابازی کی راہیں بھی ہموار کی ہیں۔ ایئر لائن انتظامیہ کے مطابق، اس طیارے نے 100 سے زائد پروازیں مکمل کیں، جس سے اس کی کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کے بارے میں اہم ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔
اس کامیاب ٹرائل کے بعد ایئر نیوزی لینڈ اب اس سے بڑے برقی طیاروں کے حصول پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ کمپنی کے حکام کا ماننا ہے کہ اگرچہ 'الیا' طیارہ ایک مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے، تاہم تجارتی پیمانے پر مسافر بردار خدمات کے لیے مزید گنجائش والے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس برقی طیارے ناگزیر ہیں۔ یہ پیش رفت ایئر لائن کے اس طویل مدتی وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور ماحول دوست ہوائی سفر کو فروغ دینا ہے۔
صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر نیوزی لینڈ کا یہ اقدام روایتی ایندھن پر چلنے والے طیاروں کے متبادل تلاش کرنے کی جانب ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ تاہم، بڑے برقی طیاروں کے استعمال میں بیٹری کی صلاحیت اور فلائٹ رینج جیسے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ایئر لائن اب دیگر بین الاقوامی مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کر رہی ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکے جو نہ صرف محفوظ ہو بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی منافع بخش ثابت ہو۔
مستقبل کے حوالے سے کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ مرحلہ وار طریقہ کار پر کاربند رہے گی۔ فی الحال ابتدائی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا بڑے برقی طیارے نیوزی لینڈ کے جغرافیائی حالات اور اندرونِ ملک پروازوں کے لیے موزوں ہوں گے یا نہیں۔ ایئر نیوزی لینڈ کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہوابازی کی صنعت میں برقی توانائی کا استعمال محض ایک تجربہ نہیں بلکہ حقیقت بن کر ابھرے گا، جس سے ایندھن کے اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔