Pakistan
عوامی خدمت اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داریاں: تہمینہ دولتانہ کا بیان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما تہمینہ دولتانہ نے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کی کامیابی کا دارومدار عوام کی بے لوث خدمت میں مضمر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے دیانتداری اور محنت کو شعار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما تہمینہ دولتانہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی نمائندوں کو اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں خلوصِ نیت اور عوامی خدمت کے جذبے کے تحت نبھانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے دن رات ایک کر دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی خوبصورتی اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب منتخب نمائندے اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی اور عوامی ترقی کے لیے کوشاں رہیں۔
تہمینہ دولتانہ نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں عوام کو درپیش چیلنجز کافی پیچیدہ ہیں، اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے قیادت کو متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ اپنا رابطہ برقرار رکھیں اور ان کی مشکلات کو اپنے حلقے کی سطح پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر عوامی نمائندے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیں اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کریں تو نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں خوشحالی کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ سیاست کو عبادت سمجھ کر کرنے والے ہی تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں، جبکہ اقتدار کا مقصد محض مراعات حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی وابستگان پر زور دیا کہ وہ اپنی صفوں میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور عوامی فلاحی ایجنڈے کو اپنی سیاسی ترجیحات کا مرکز بنائیں۔ تہمینہ دولتانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہماری قیادت اور عوامی نمائندے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پرعزم ہیں اور آنے والے دنوں میں عوامی ریلیف کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
اختتامی طور پر انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر ہی ہم ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عوامی نمائندے شفافیت اور دیانتداری کے اصولوں پر کاربند رہیں گے، تو عوام کے دلوں میں جمہوری اداروں کا احترام مزید بڑھے گا، جو کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ایک ناگزیر عمل ہے۔