Pakistan
لاہور پولیس حملہ کیس: مریدکے میں دو دہشت گرد پولیس مقابلے میں ہلاک
لاہور میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعہ میں ملوث دو اہم ملزمان مریدکے کے قریب پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ ملزمان کی ہلاکت کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے جان لیوا حملوں میں ملوث دو اہم ملزمان مریدکے کے قریب پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ ملزمان حالیہ دنوں میں لاہور کے مختلف علاقوں بشمول بادامی باغ میں پولیس ٹیموں پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ملوث تھے، جن میں متعدد پولیس افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اطلاع پر جب پولیس کی ٹیم نے مریدکے کے علاقے میں مشکوک افراد کو روکا تو انہوں نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان مارے گئے۔
اس سے قبل لاہور میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد پورے شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی اور حکام کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور ایک کانسٹیبل کو بھی ابتدائی تفتیش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا تاکہ ان روابط کی چھان بین کی جا سکے جو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی مدد کا باعث بنے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مریدکے میں مارے جانے والے ملزمان انتہائی خطرناک تھے اور وہ منظم طریقے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔ ان کی ہلاکت کو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شہداء کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہیں، جس میں اعلیٰ پولیس حکام اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ شہداء کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کی فراہمی تک چین نہیں آئے گا، جبکہ حکومت نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پولیس پر حملہ کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مریدکے کا یہ واقعہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کے مزید تانے بانے ملانے کے لیے فرانزک ماہرین اور انٹیلی جنس ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے تاکہ ان کے ممکنہ سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔