Politics
پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری اور علاقائی صورتحال پر اہم ملاقات
پاکستان کے نائب وزیراعظم نے چینی سفیر سے ملاقات کے دوران علاقائی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک چین تزویراتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی دارالحکومت میں نائب وزیراعظم اور چینی سفیر کے مابین ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ یہ پورے خطے کے امن اور خوشحالی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ملاقات کے دوران عالمی سطح پر رونما ہونے والی حالیہ تبدیلیوں اور ان کے خطے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا، جس میں دونوں جانب سے باہمی مشاورت کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ایک چینی وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت مسٹر لیو ڈاشیو کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے کردار اور پارٹی سازی کے حوالے سے صدر شی جن پنگ کے افکار پر خصوصی گفتگو کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ پارٹی ٹو پارٹی روابط بڑھانے پر دیا جانے والا زور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کو ایک نئی جہت عطا کرے گا۔ یہ بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور چین عوامی اور سیاسی سطح پر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
چینی وفد نے عالمی اسٹیج پر چین کے عروج کے پیچھے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی حکمت عملیوں اور اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنی ترقی کا تجربہ پاکستان کے ساتھ بانٹنے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔ نائب وزیراعظم نے چینی وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، چین کو اپنا سب سے قابل اعتماد دوست سمجھتا ہے اور سی پیک سمیت تمام مشترکہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطحی وفود کے دورے اور سیاسی سطح پر مسلسل رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگی۔ اس موقع پر پاک چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا، جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔