LIVE
Loading Breaking News...

یو ایس ایس ابراہم لنکن کی صورتحال اور امریکی انتظامیہ کا موقف

News Image
امریکی صدر نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود عملے کی ذہنی صحت اور خراب حالات کی رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی سطح پر ان دعووں کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا ہے، جبکہ بحری جہاز کے عملے کے مسائل پر بحث جاری ہے۔
امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' پر پیش آنے والی مبینہ بحرانی صورتحال نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جہاز پر تعینات عملہ شدید ذہنی دباؤ اور خراب حالات کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے جہاز کے اندرونی ماحول میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے گئے، جن کا مقصد عملے کی فلاح و بہبود اور ان کے کام کرنے کے حالات کا جائزہ لینا ہے۔ تاہم، امریکی صدر کی جانب سے ان تمام رپورٹس کو بظاہر مسترد کر دیا گیا ہے، اور حکومتی سطح پر اس مسئلے کو سنگین نوعیت کا قرار دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر کا اس معاملے پر ردعمل انتہائی محتاط رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کی ذہنی صحت اور وہاں موجود سہولیات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، لیکن میڈیا میں چلنے والی خبریں حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ طویل عرصے تک سمندر میں تعیناتی اور مسلسل آپریشنل ذمہ داریوں کی وجہ سے عملے میں تھکن اور ذہنی تناؤ پیدا ہونا فطری امر ہے، جسے نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، بحریہ کے ترجمانوں کا اصرار ہے کہ جہاز پر تمام بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات موجود ہیں اور کسی بھی قسم کے بڑے بحران کا وجود نہیں ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی بحریہ کو اپنی آپریشنل استعداد برقرار رکھنے کے لیے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کا معاملہ محض ایک جہاز تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری امریکی نیوی میں ذہنی صحت کے مسائل اور عملے کی دستیابی سے جڑا ایک وسیع تر موضوع بن چکا ہے۔ فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق، طویل مشنز کے دوران فوجیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کسی بھی جنگی مشن کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا مستقبل میں امریکی محکمہ دفاع اس حوالے سے کوئی نئی پالیسی وضع کرتا ہے یا ان مسائل کو تنظیمی سطح پر ہی حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔