World
ایران کی میزائل صلاحیت اور امریکی دعوے: حقیقت کیا ہے؟
امریکہ کی جانب سے ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے دعووں پر عالمی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک سابق وائٹ ہاؤس مشیر نے ان دعووں کو محض ایک خوش فہمی قرار دیتے ہوئے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ایران کی بیلسٹک میزائل تیار کرنے اور چلانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اسے بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور واشنگٹن اور تہران کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کے ان بلند و بانگ دعووں کے بعد عالمی دفاعی تجزیہ کاروں اور عسکری ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام کافی وسیع اور پھیلا ہوا ہے، جسے کسی ایک حملے یا کارروائی سے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کے ایک سابق مشیر نے امریکی حکام کے ان دعووں پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں ان دعووں کو 'خوش فہمی' یا 'ایک خواب' سے تعبیر کیا ہے۔ سابق مشیر کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی دفاعی ٹیکنالوجی کو نہ صرف جدید بنایا ہے بلکہ اسے کئی زیر زمین تنصیبات اور خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی غیر ملکی قوت کے لیے اس صلاحیت کو مکمل طور پر نابود کرنا ایک ناممکن ہدف ہے۔ اس بیان نے امریکی پالیسی سازوں کی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے دعوے دراصل سفارتی دباؤ بڑھانے اور داخلی طور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ایران نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام مکمل طور پر خود انحصار ہے اور اسے کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تہران کی جانب سے ابھی تک ان امریکی دعووں پر کوئی باضابطہ جواب تو نہیں دیا گیا، تاہم ایرانی حکام کا رویہ یہی رہا ہے کہ ان کی میزائل فورس کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ عالمی برادری اب اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی پورے خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔