Pakistan
ایمان مزاری کی خراب طبیعت: اسلام آباد بار کا اعلیٰ عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے زیر حراست ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی بگڑتی ہوئی طبی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بار حکام نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے زیر حراست ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل میں مبینہ طور پر بگڑتی ہوئی طبی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر ارم رشید اور سیکریٹری راجہ خاور دھنیال نے اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز کو ایک باقاعدہ خط لکھا ہے، جس میں ان قیدیوں کو درپیش سنگین صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری قید کے دوران سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں اور انہیں مسلسل طبی علاج کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہادی علی چٹھہ کی صحت بھی تشویشناک ہے اور انہیں بروقت طبی امداد فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اپنے مراسلے میں بار ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قیدی کو بروقت اور مناسب طبی علاج فراہم کرنا اس کا بنیادی انسانی حق ہے اور متعلقہ حکام کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ جیل میں قید افراد کو صحت کی تمام تر سہولیات فراہم کریں۔ بار کے عہدیداران نے مطالبہ کیا کہ جیل حکام اور متعلقہ میڈیکل آفیسرز کو فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ دونوں قیدیوں کو ان کی طبیعت کے مطابق مسلسل اور معیاری علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔ طبی امداد کے بغیر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
مزید برآں، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹسز سے استدعا کی ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی زیر التواء درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ بار نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان قیدیوں کی حالت زار کو مدنظر رکھا جائے اور عدالتی عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ قانون کے مطابق ریلیف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ اسلام آباد کے وکلاء برادری کی جانب سے یہ اقدام قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار ہے، جس کا مقصد جیل کے اندر انسانی حقوق کی پامالی کو روکنا ہے۔