Politics
ترکیہ سیاست: اپوزیشن جماعت سی ایچ پی میں تقسیم، نئی جماعت کا اعلان
ترکیہ کی اہم اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) میں اندرونی اختلافات کے باعث بڑی پھوٹ پڑ گئی ہے۔ سابق چیئرمین اوزگور اوزل اور دیگر اراکینِ پارلیمنٹ نے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا ہے جس سے صدر اردوان کی حکمران جماعت اے کے پارٹی کے خلاف سیاسی میدان میں ایک نیا چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔
ترکیہ کی سیاست میں ایک اہم اور ڈرامائی موڑ اس وقت سامنے آیا جب ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) میں شدید اندرونی اختلافات کے نتیجے میں باضابطہ طور پر تقسیم واقع ہوگئی ہے۔ جماعت کے سابق چیئرمین اوزگور اوزل اور کئی دیگر اہم اراکینِ پارلیمنٹ نے موجودہ قیادت سے اختلافات کے بعد ایک بالکل نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن صفوں میں یہ افتراق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی مختلف معاشی اور علاقائی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ نئی جماعت کے قیام سے ترکیہ کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا ہلچل مچ گئی ہے اور اسے ترکیہ کے موجودہ صدر رجب طیب اردوان کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے لیے ایک تازہ سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اوزگور اوزل اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ملک کو اس وقت ایک نئی سیاسی سمت اور متبادل قیادت کی اشد ضرورت ہے جو عوامی توقعات پر پورا اتر سکے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی پیش رفت کے نتیجے میں اپوزیشن کا ووٹ بینک تقسیم ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ حکمران اے کے پارٹی کو ملنے کے امکانات ہیں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی جماعت عوام میں کتنی مقبولیت حاصل کرتی ہے اور آنے والے انتخابات میں اس کا ترکیہ کی قومی سیاست پر کیا گہرا اثر پڑتا ہے۔