LIVE
Loading Breaking News...

جے ایس ایم یو میں پروفیسر کی دوبارہ تعیناتی: اساتذہ کا سخت ردعمل

News Image
جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے چھ فیکلٹی ارکان نے پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد تین سالہ توسیع دینے کے فیصلے پر وائس چانسلر سے نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ فیکلٹی کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے میرٹ اور ترقی کے منتظر دیگر اساتذہ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔
کراچی کی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) میں صوبائی کابینہ کی جانب سے ریٹائر ہونے والی ایک پروفیسر کو تین سالہ توسیعی مدت دینے کا فیصلہ تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یونیورسٹی کی فیکلٹی کے چھ اہم ارکان نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میرٹ، سنیارٹی اور طے شدہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ احتجاج کرنے والوں میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر میمونہ رحمان، اسسٹنٹ پروفیسرز ڈاکٹر شفق اسماعیل، ڈاکٹر عمیمہ اختر، ڈاکٹر ماہرخ حیدر اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کی سینئر رجسٹرار ڈاکٹر سائرہ شیخ شامل ہیں۔ ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ شعبہ امراض نسواں و زچگی میں کئی ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسرز اپنی ترقی کے منتظر ہیں، اور اس طرح کی تقرریوں سے ان کے کیریئر کے مواقع بری طرح متاثر ہوں گے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع عام طور پر تب ہی دی جاتی ہے جب کوئی اہل امیدوار موجود نہ ہو، جبکہ یہاں صورتحال مختلف ہے۔ اساتذہ کا ماننا ہے کہ کابینہ کا یہ اقدام نہ صرف میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے تعلیمی ادارے کا تعلیمی معیار، تحقیقی کام اور مریضوں کی دیکھ بھال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث جاری ہے کیونکہ پروفیسر نگہت شاہ، جو سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں، کو ریٹائرمنٹ سے کچھ دن قبل یہ توسیع دی گئی۔ فیکلٹی ارکان کا مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر اس معاملے کا عوامی مفاد میں جائزہ لیں تاکہ یونیورسٹی کے اندر ایک شفاف اور منصفانہ ماحول برقرار رہ سکے۔ دوسری جانب، حکومتی حکام اور جے پی ایم سی کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ توسیع پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی پالیسی کے تحت دی گئی ہے اور اس کا مقصد ادارہ جاتی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ جے پی ایم سی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ ٹونیو نے ڈاکٹر نگہت شاہ کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہسپتال کے گائنی وارڈ کو نہ صرف فعال کیا بلکہ یہاں کئی جدید سہولیات متعارف کروا کر مریضوں کی حالت بہتر بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی خدمات طبی شعبے کے لیے ایک اثاثہ ہیں، خاص طور پر تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کے حوالے سے ان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ تاہم، طبی برادری کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ حکومت اس تنازعے سے بچ سکتی تھی اگر وہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ایک واضح اور یکساں قانون وضع کرتی۔ پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ریٹائرڈ اساتذہ کو 65 سال کی عمر تک کنٹریکٹ پر رکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ ادارے کے لیے لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔ چونکہ جے ایس ایم یو نے اس سے قبل ہی عملے کی کمی پورا کرنے کے لیے ریٹائرڈ اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت مانگی ہوئی ہے، اس لیے اس تازہ پیش رفت نے یونیورسٹی میں میرٹ کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اساتذہ اب وائس چانسلر سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ میرٹ اور سنیارٹی کے اصولوں کو ہر حال میں فوقیت دیں گے۔