LIVE
Loading Breaking News...

سرکاری نوکریوں میں گھوسٹ پے رول کا انکشاف، 14 رشتہ داروں کو تنخواہیں جاری

News Image
آئی سی پی سی نے سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ پے رول فراڈ کا سراغ لگایا ہے جس میں ایک افسر کے 14 اہل خانہ کو سرکاری ملازم ظاہر کیا گیا ہے۔ تفتیشی ادارے کے مطابق ایک اور سرکاری عہدیدار بیک وقت 13 تنخواہیں وصول کر رہا تھا۔
انٹی کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کمیشن (ICPC) نے ایک انتہائی سنگین اور چونکا دینے والے مالیاتی فراڈ کا انکشاف کیا ہے، جس نے سرکاری نظام کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق، ایک سرکاری افسر نے بددیانتی کی تمام حدود عبور کرتے ہوئے اپنے خاندان کے 14 افراد کو سرکاری پے رول پر رجسٹر کر رکھا تھا، جنہیں بغیر کسی کام کے باقاعدگی سے سرکاری خزانے سے بھاری رقوم بطور تنخواہ ادا کی جا رہی تھیں۔ یہ انکشاف تب ہوا جب ادارے نے پے رول کا فرانزک آڈٹ شروع کیا اور ملازمین کی تفصیلات کو حقیقی حاضری کے ریکارڈ کے ساتھ موازنہ کیا۔ مزید برآں، تحقیقات کے دوران ایک اور افسوسناک حقیقت سامنے آئی ہے جس میں ایک اور سرکاری عہدیدار کے بارے میں انکشاف ہوا کہ وہ بیک وقت 13 مختلف تنخواہیں وصول کر رہا تھا۔ یہ 'گھوسٹ پے رول' سکینڈل نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس سے ان مستحق افراد کے حقوق بھی سلب ہو رہے ہیں جو میرٹ پر نوکری حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔ آئی سی پی سی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ایسے عناصر نے سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ناموں اور فرضی دستاویزات کے ذریعے سرکاری فنڈز کی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ ادارے کی جانب سے اس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بدعنوانی معاشرے میں موجود میرٹ کے تصور کو تباہ کر رہی ہے اور ملکی معیشت پر بوجھ بن رہی ہے۔ آئی سی پی سی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پے رول سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے گھوسٹ ملازمین یا فرضی بھرتیوں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ یہ کیس نائجیریا سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے سرکاری نظام میں موجود خرابیوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتساب کے عمل کو تیز کرنے اور مالیاتی امور میں شفافیت لانے کے بغیر ایسے کرپشن مافیاز کا قلع قمع کرنا ناممکن ہے۔ عوام کی جانب سے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملوث افسران کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ عوامی خزانے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔