Business
ایشیائی اسٹاک مارکیٹ: امریکی معاشی صورتحال کے بعد تیزی کی لہر
امریکی افراط زر کے اعدادوشمار میں بہتری کے بعد ایشیائی حصص کی منڈیوں میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو اب شرح سود میں مزید اضافہ نہیں کرے گا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں نے امریکی افراط زر کے اعدادوشمار میں نمایاں بہتری کے بعد تیزی کا سفر جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ مسلسل چوتھا ہفتہ ہے جب ایشیائی حصص کی منڈیوں میں مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی افراط زر کی شرح میں کمی نے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو اب آنے والے مہینوں میں شرح سود میں مزید اضافے سے گریز کرے گا، جس سے عالمی منڈیوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے نے اس تیزی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز اور سافٹ ویئر کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافے نے انڈیکس کو بلندیوں پر پہنچایا ہے۔ ایشیائی سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اس بات کی عکاس ہے کہ مارکیٹ اب دوبارہ رسک لینے کے لیے تیار ہے۔ جاپان سے لے کر ہانگ کانگ تک، تمام بڑی مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں سرمایہ کاروں نے منافع بخش کمپنیوں کے حصص کی خریداری میں تیزی دکھائی ہے۔
دوسری جانب، معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو مستحکم رکھنے کا اشارہ عالمی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اگر افراط زر اسی طرح قابو میں رہا تو مستقبل میں قرضے سستے ہونے کی امید ہے، جس سے صنعتی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ تاہم، کچھ ماہرین اب بھی محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اب بھی معاشی استحکام کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی فیڈرل ریزرو کی اگلی پالیسی میٹنگ پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کو امید ہے کہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے اشارے نہ صرف ایشیائی بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مزید تیزی کا باعث بنیں گے۔ فی الحال، ایشیائی منڈیوں میں اعتماد کی فضا برقرار ہے اور سرمایہ کار اس مثبت لہر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا اثر اگلے کچھ ہفتوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔