LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ڈرونز پر 100 فیصد ٹیرف عائد، قومی سلامتی کو ترجیح

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر مخصوص صلاحیتوں کے حامل ڈرونز پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حساس ٹیکنالوجی کی درآمدات کو کنٹرول کرنا اور ملکی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت قومی سلامتی کے خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے مخصوص سائز اور صلاحیتوں کے حامل ڈرونز کی درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، یہ اقدامات ان ڈرونز پر لاگو ہوں گے جو تکنیکی اعتبار سے انتہائی حساس ہیں اور ملکی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس نئے فیصلے میں خاص طور پر 55 پاؤنڈ سے زائد وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز کو ہدف بنایا گیا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کی آزادانہ درآمدات نہ صرف ملکی صنعتی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ خفیہ نگرانی اور دیگر سیکیورٹی امور میں بھی پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ تجارتی ماہرین اس اقدام کو 'ٹیرف وار' کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی سطح پر ڈرون بنانے والی کمپنیوں کے لیے امریکی منڈی میں داخلہ انتہائی مہنگا ہو جائے گا، جس سے بین الاقوامی سپلائی چین پر بھی دباؤ بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو روکنے اور ملکی دفاعی ڈھانچے کو جدید ترین خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صارفین کی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب حامیوں کا خیال ہے کہ قومی سلامتی کے مفادات تجارتی منافع سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک اس امریکی فیصلے پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا اس سے تکنیکی میدان میں نئے تجارتی تنازعات جنم لیتے ہیں یا نہیں۔