LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا اسٹاک مارکیٹ: کوسپی انڈیکس میں نمایاں بہتری

News Image
جنوبی کورین اسٹاک مارکیٹ انڈیکس کوسپی میں 0.82 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جو گزشتہ سات ہفتوں سے جاری گراوٹ کے خاتمے کی علامت ہے۔ اس مثبت رجحان کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق چپس کی مانگ اور امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر کی کارکردگی ہے۔
جنوبی کوریا کی شیئرز مارکیٹ گزشتہ سات ہفتوں سے جاری گراوٹ کے طویل سلسلے کو ختم کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ کوسپی (KOSPI) انڈیکس میں 0.82 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد انڈیکس تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بہتری عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس کے مستحکم رجحان کی مرہون منت ہے۔ مارکیٹ میں اس تیزی کے پیچھے سب سے اہم محرک سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی کمپنیاں رہی ہیں۔ خاص طور پر ایس کے ہینکس (SK Hynix) کے حصص کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ آٹوموبائل سیکٹر میں بھی تیزی دیکھی گئی، جس نے مجموعی انڈیکس کو اوپر اٹھانے میں مدد فراہم کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری جنوبی کوریا کی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے جو آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں جہاں کچھ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا، وہیں سام سنگ الیکٹرانکس (Samsung Electronics) کے حصص میں معمولی تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔ سام سنگ کی کارکردگی میں یہ گراوٹ مارکیٹ کے عمومی مثبت رجحان کے برعکس دیکھی گئی، لیکن دیگر بڑی کمپنیوں کے شاندار نتائج نے اس کمی کو توازن بخش دیا۔ عالمی منڈیوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست جنوبی کوریا کی اسٹاک ایکسچینج پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آئندہ کے تناظر میں معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں اسی طرح رہیں اور عالمی سطح پر چپ سازی کی صنعت میں طلب برقرار رہی تو جنوبی کوریا کی مارکیٹ مزید بہتری کی طرف گامزن رہے گی۔ سات ہفتوں کے مسلسل نقصانات کے بعد یہ بحالی نہ صرف ملکی سرمایہ کاروں بلکہ بین الاقوامی مبصرین کے لیے بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آیا یہ تیزی ایک پائیدار رجحان میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں، لیکن فی الحال مارکیٹ کا موڈ محتاط لیکن پرامید نظر آتا ہے۔