LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کا امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں پر سخت ردعمل

News Image
شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کو اپنے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ پیانگ یانگ نے خبردار کیا ہے کہ وہ ان مشقوں کے جواب میں ایک نئے سطح کے ڈیٹرنٹ کا استعمال کر سکتا ہے۔
شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ان مشقوں کے جواب میں ایک نئے سطح کے ڈیٹرنٹ یعنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ پیانگ یانگ کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشقیں دراصل شمالی کوریا کے خلاف ایک جنگی تیاری کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ شمالی کوریا کا ماننا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کا یہ اقدام عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور اس کا جواب دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فوجی مشقیں ایسے وقت میں منعقد کی جا رہی ہیں جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ شمالی کوریا نے واضح کیا ہے کہ اس کے فوجی دستے جو روس کے ساتھ حالیہ صورتحال کے باعث جنگی تجربات سے گزرے ہیں، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پیانگ یانگ نے ان مشقوں کو اپنے اقتدارِ اعلیٰ کے خلاف ایک کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ امریکہ اور جنوبی کوریا کا موقف ہے کہ ان کا مقصد صرف دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم شمالی کوریا نے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے 'نئے ڈیٹرنٹ' کی دھمکی جوہری یا میزائل ٹیسٹ کی جانب اشارہ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جزیرہ نما کوریا میں عسکری کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس پر عالمی برادری نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فی الحال صورتحال انتہائی حساس مرحلے پر ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ شمالی کوریا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسے طاقت کی زبان میں دھمکایا نہیں جا سکتا اور وہ اپنی دفاعی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی یا پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ اور جنوبی کوریا اپنی مشقوں کے شیڈول میں کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا خطے کی یہ کشیدگی مزید شدت اختیار کر جائے گی۔