Business
جاپان اسٹاک مارکیٹ اپ ڈیٹ: نیکی 225 میں نمایاں تیزی
امریکہ میں افراط زر کے اعداد و شمار میں کمی کے بعد جاپانی نیکی انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے باعث تکنیکی شعبے کے حصص میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں جمعہ کے روز کاروبار کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی، جہاں نیکی 225 انڈیکس میں تقریباً ایک فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کے اس مثبت رجحان کی بنیادی وجہ امریکہ سے موصول ہونے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار ہیں، جو توقع سے کافی نرم رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں پھیلے خدشات کو کسی حد تک کم کر دیا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں غیر متوقع طور پر اضافہ کر سکتا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے جوکھم لینے کی صلاحیت کو بڑھایا ہے جس کا براہ راست اثر ایشیائی منڈیوں پر نظر آ رہا ہے۔
تکنیکی شعبے کے حصص نے اس تیزی میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھی گئی، جس سے نیکی انڈیکس کو ایک نئی تقویت ملی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں افراط زر کے دباؤ میں کمی سے عالمی معاشی استحکام کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، جس کا فائدہ جاپانی برآمدی کمپنیوں کو بھی حاصل ہو رہا ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر بھی نیکی انڈیکس ایک مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو جاپانی مارکیٹ میں یہ تیزی سرمایہ کاروں کی بدلتی حکمت عملی کا عکاس ہے۔ جہاں ایک جانب فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کم ہو رہی ہے، وہیں دوسری جانب عالمی سطح پر رسک ایپٹائیٹ یعنی خطرہ مول لینے کے رجحان میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عالمی منڈیوں میں ابھی بھی محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل کے معاشی اشاریے جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، جاپانی مارکیٹ کا حالیہ ہفتہ کاروباری اعتبار سے کافی سود مند رہا ہے۔ سرمایہ کار اب اگلے ہفتے آنے والے مزید معاشی اعداد و شمار پر اپنی نظریں جمائے بیٹھے ہیں تاکہ مارکیٹ کے طویل مدتی رجحان کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ جاپان کے نیکی 225 کی یہ کارکردگی نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ ایشیا پیسیفک خطے کے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ عالمی منڈیوں میں اعتماد کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔