Business
پاکستان اور ترکیہ کے معاشی تعلقات: استنبول میں پاکستانی تاجروں کا اعزاز
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے استنبول میں ایک پروقار تقریب کے دوران ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیات کو ان کی خدمات پر اعزاز سے نوازا۔ تقریب کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے مابین تجارت اور معاشی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI) نے حال ہی میں ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستانی کاروباری شخصیات کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا اور انہیں اعزاز سے نوازنا تھا۔ اس تقریب میں پاکستان اور ترکیہ کے ممتاز صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور تاجر برادری کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی اور اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو آپس میں قریبی رابطے بڑھانے ہوں گے۔ استنبول میں موجود پاکستانی قونصل جنرل نے بھی اس موقع پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اور جوائنٹ وینچرز وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عالمی معاشی چیلنجز کے تناظر میں، دونوں ممالک کو اپنی برآمدات اور درآمدات کے حجم کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
اس کے علاوہ، تقریب کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے مابین صحت، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ خطے کی مجموعی اقتصادی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی۔ شرکاء نے آئی سی سی آئی کی اس کوشش کو سراہا کہ انہوں نے پاکستان کی کاروباری صلاحیتوں کو عالمی پلیٹ فارم پر اجاگر کیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر پاکستانی تاجروں کو ان کی نمایاں کارکردگی پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔ یہ تقریب اس عزم کے ساتھ ختم ہوئی کہ پاکستان اور ترکیہ مستقبل میں معاشی طور پر ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے اور دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی وفود کے دوروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ دوطرفہ تجارت کو حقیقی معنوں میں ترقی دی جا سکے۔