LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحریہ کی تعیناتی پر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اور بحری عملے کی مشکلات

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل سمندری تعیناتی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس بیان کے بعد سے امریکی کانگریس اور عسکری حلقوں میں بحری عملے کی حالت زار اور طویل ڈیوٹی پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی سمندری تعیناتی کے دورانیے پر کھل کر تنقید کی ہے اور اسے 'ضرورت سے کہیں کم' قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کے اس طیارہ بردار جہاز پر موجود عملے کی نفسیاتی اور جسمانی حالت کے بارے میں تشویشناک رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں۔ یہ جہاز طویل عرصے تک سمندر میں رہا، جس کی وجہ سے نہ صرف جہاز کی تکنیکی حالت متاثر ہوئی بلکہ اس پر تعینات ہزاروں ملاحوں نے شدید تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ کی شکایت کی ہے۔ کانگریس کے ارکان نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بحریہ کے اعلیٰ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔ دوسری جانب، ایک ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران فوجی خاندانوں نے قائم مقام نیوی سیکرٹری کے سامنے اپنے پیاروں کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ طویل تعیناتیوں کی وجہ سے ملاحوں کی خاندانی زندگی متاثر ہو رہی ہے اور وہ طویل عرصے تک اپنے گھروں سے دور رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ رپورٹس اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امریکی بحریہ کو درپیش افرادی قوت اور وسائل کے مسائل کس قدر سنگین ہو چکے ہیں۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے امریکہ پر دباؤ ہے کہ وہ اپنے بحری اثاثوں کو زیادہ سے زیادہ وقت تک سمندر میں تعینات رکھے، جس کی قیمت ملاحوں کی صحت کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی بحریہ کے لیے طیارہ بردار جہازوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور انہیں طویل عرصے تک جنگی حالات میں تعینات رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پینٹاگون کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ایک تازہ طیارہ بردار جہاز کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، ٹرمپ کے بیان نے اس بحث کو ایک نئی جہت دی ہے کہ آیا موجودہ تعیناتی کا ماڈل پائیدار ہے یا نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، طویل تعیناتیوں کا تسلسل نہ صرف جہازوں کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ یہ امریکی بحریہ کی مجموعی کارکردگی کو بھی متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ مسلسل دباؤ کے باعث تجربہ کار اہلکار فوج چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔