LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں گرمی کی لہر اور قحط سالی کا خلائی جائزہ

News Image
مغربی یورپ میں شدید گرمی کی لہروں اور قحط سالی کے باعث زمینوں کی زرخیزی اور آبی ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا سیٹلائٹ کے ذریعے مشاہدہ کیا گیا ہے۔ بی بی سی ویریفائی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں دریاؤں، خشک کھیتوں اور پہاڑی سلسلوں پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
حال ہی میں خلا سے لی گئی تصاویر اور سیٹلائٹ ڈیٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مغربی یورپ کے بڑے حصے شدید گرمی کی لہروں اور طویل قحط سالی کے باعث بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بی بی سی ویریفائی کی تحقیق کے مطابق، گزشتہ موسم گرما کے دوران ریکارڈ توڑ درجہ حرارت نے زرعی زمینوں کو خشک اور بنجر بنا دیا ہے جبکہ اہم دریاؤں کی سطح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سیٹلائٹ امیجز بتاتی ہیں کہ یورپ کے قدرتی مناظر جو کبھی سرسبز و شاداب ہوا کرتے تھے، اب شدید خشک سالی کی وجہ سے اپنی چمک کھو چکے ہیں۔ محققین کے مطابق، ان گرمی کی لہروں کا سب سے زیادہ اثر دریاؤں، زرعی کھیتوں اور پہاڑی گلیشیئرز پر پڑا ہے۔ بہت سے دریاؤں میں پانی کی سطح اتنی گر چکی ہے کہ وہاں سے نقل و حمل اور آبپاشی کے نظام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، زمین کی نمی میں کمی کے باعث فصلوں کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے یورپی معیشت اور خوراک کی فراہمی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر موسمیاتی تبدیلی کے واضح ثبوت ہیں جو اب یورپ جیسے ترقی یافتہ خطوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ مزید برآں، پہاڑی علاقوں میں جہاں برف ہمیشہ موجود رہتی تھی، وہاں اب چٹانیں اور خشک زمینیں دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف سیاحت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ آئندہ سالوں کے لیے پانی کے ذخائر پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو گرمی کی ایسی لہریں مستقبل میں مزید سنگین صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک اب اپنے پانی کے انتظام اور ماحولیاتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ رپورٹ نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک بیداری کا پیغام ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل ہونے والے یہ شواہد دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اس بات پر متفق کر رہے ہیں کہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ انسانی سرگرمیوں اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا نتیجہ ہے، جس کا فوری تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔