World
تائیوان کا دفاعی بجٹ منظور: ڈرون پروگرام کے لیے فنڈز برقرار
تائیوان کی پارلیمنٹ نے کئی ماہ کی بحث اور تعطل کے بعد ایک اہم دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس بجٹ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے مختص فنڈز کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
تائیوان کی پارلیمنٹ نے ایک طویل اور پیچیدہ تعطل کو ختم کرتے ہوئے قومی دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور چین کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان میں ہونے والی گرما گرم بحث کے باوجود، قانون سازوں نے ملک کی قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے بجٹ کی توثیق کر دی ہے تاکہ تائیوان اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار رکھ سکے۔ اس بجٹ کی منظوری کا عمل کئی ماہ تک تاخیر کا شکار رہا تھا، جس کی وجہ سے حکومتی حلقوں اور دفاعی ماہرین میں تشویش پائی جا رہی تھی۔
اس بجٹ کی سب سے اہم خصوصیت ڈرون پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ تائیوان نے حالیہ عرصے میں غیر ملکی اور مقامی ساختہ ڈرون ٹیکنالوجی پر بھاری سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد سمندری حدود کی نگرانی اور ممکنہ جارحیت کا فوری جواب دینے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید ڈرونز کا استعمال نہ صرف دفاعی اخراجات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ یہ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ایک کلیدی ہتھیار بھی ثابت ہوتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری تائیوان کی اسٹریٹجک خود مختاری کو مضبوط کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
بیجنگ اور تائیوان کے مابین بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کے پیش نظر یہ بجٹ تائیوان کی دفاعی پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اگرچہ اپوزیشن کی جانب سے کچھ تکنیکی اعتراضات اٹھائے گئے تھے، لیکن بالآخر قومی مفاد میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بجٹ کو پاس کیا گیا۔ تائیوان کی وزارت دفاع نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اب ان کے پاس اپنے دفاعی منصوبوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے لیے ضروری مالی وسائل موجود ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ تائیوان اپنی سلامتی کے معاملے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔