LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں شدید زلزلہ، 20 ہلاکتوں کی تصدیق

News Image
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں 7.7 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہزاروں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا کے جزیرے فلورس میں ہفتے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز جزیرے کے شمالی ساحل کے قریب تھا، جس کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ناجیکیو (Nagekeo) ریجنسی ہے، جہاں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زلزلے کے فوراً بعد حکام کی جانب سے سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی، جس کے بعد ساحلی علاقوں کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہزاروں افراد اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات اور پہاڑی علاقوں کی طرف بھاگ اٹھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ساحل پر سمندری پانی پیچھے ہٹنے لگا تھا، جو کہ سونامی کی آمد کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ بعد ازاں سونامی کی وارننگ واپس لے لی گئی، لیکن ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں میں واپس نہ جائیں کیونکہ آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے اور مزید عمارتیں گرنے کا خدشہ موجود ہے۔ زلزلے کے بعد اب تک درجنوں آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن میں سب سے طاقتور جھٹکا 6.1 شدت کا تھا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے دوران ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی افراتفری کا عالم رہا جہاں مریض عمارتیں ہلنے پر باہر نکل آئے اور کئی عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے انتہائی شدید تھے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ اب بھی کئی لوگ ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں جن کی بازیابی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ انڈونیشیا پیسیفک 'رنگ آف فائر' پر واقع ہونے کی وجہ سے زلزلوں کے حوالے سے انتہائی حساس خطہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی فلورس اور دیگر جزائر پر اسی نوعیت کے زلزلے بڑی تباہی لا چکے ہیں۔ سن 1992 میں بھی فلورس کو 7.7 شدت کے زلزلے اور سونامی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں تقریباً 2500 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے اور امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔