LIVE
Loading Breaking News...

آن لائن اسکیم مراکز اور انسانی اسمگلنگ: اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ

News Image
اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق اس گھناؤنے چکر میں اسی سے زائد ممالک کے معصوم شہریوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر پھنسایا جا رہا ہے۔ جعلی نوکریوں کے اشتہارات کے ذریعے متاثرہ افراد کو سائبر فراڈ کے ان مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (آئی او ایم) کے سربراہ نے ایک اہم اور تشویشناک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں قائم آن لائن فراڈ کے مراکز انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو تیزی سے فروغ دے رہے ہیں۔ ان مراکز کے ذریعے نہ صرف مالی دھوکہ دہی کی جارہی ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بھی سامنے آرہی ہیں جن پر عالمی سطح پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس مکروہ دھندے میں دنیا کے اسی سے زائد مختلف ممالک کے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جنہیں سوشل میڈیا پر پرکشش اور جعلی نوکریوں کے سنہرے خواب دکھا کر گھروں سے دور بلایا جاتا ہے۔ متاثرہ افراد جب ان فراڈ نیٹ ورکس کے جھانسے میں آکر متعلقہ ممالک کا رخ کرتے ہیں تو انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے روزگار کے جھوٹے اشتہارات پھیلائے جاتے ہیں، جن میں نوکری کے خواہشمند نوجوان بالخصوص نشانہ بنتے ہیں۔ وہاں پہنچنے کے بعد ان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات ضبط کر لی جاتی ہیں اور انہیں سائبر اسکیمز چلانے والے مراکز میں قیدیوں کی طرح کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ مجرمانہ نیٹ ورکس بہت منظم انداز میں کام کر رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے بچنے کے لیے جدید تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عالمی مسئلے سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام ممالک کو باہمی تعاون بڑھانا ہوگا اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی ایسے جعلی اشتہارات کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ معصوم لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔