Entertainment
فلم گھوسٹ اسکول پر پابندی: سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے فلم 'گھوسٹ اسکول' پر پابندی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو اکیس اگست تک اپنی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے فلم 'گھوسٹ اسکول' کی نمائش پر حکومتی پابندی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت عالیہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا باضابطہ جواب 21 اگست تک جمع کرائیں۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم کو سنسر بورڈ سے کلیئرنس ملنے کے باوجود اس کی نمائش پر قدغن لگانا غیر آئینی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہے۔
عدالت میں پیش کردہ دلائل کے مطابق فلم 'گھوسٹ اسکول' تعلیمی اداروں کی خستہ حالی اور وہاں موجود مسائل کی عکاسی کرتی ہے، جو کہ ایک حساس سماجی موضوع ہے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے تاکہ فلم کو عوام کے لیے پیش کیا جا سکے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلموں کی نمائش کے حوالے سے سنسر بورڈ اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی حلقوں کی جانب سے بحث کی جا رہی ہے۔ 'گھوسٹ اسکول' جیسی فلمیں جو سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں، ان پر پابندی کو سول سوسائٹی اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد کی جانب سے تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب تمام تر نظریں 21 اگست کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں حکومت کی جانب سے اس پابندی کے پیچھے کارفرما وجوہات کو عدالت کے سامنے رکھا جائے گا۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فلم نے سنسر سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا تھا، تو پھر اسے روکنے کے لیے ٹھوس قانونی جواز کی ضرورت ہوگی۔ عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد، اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا جواب داخل کیا جاتا ہے اور آیا عدالت فلم کی نمائش کے لیے کوئی عبوری ریلیف فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ اس کیس کا فیصلہ پاکستان میں فلموں کی نمائش اور سنسرشپ کے قوانین پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔