World
افغانستان میں طالبان کے پانچ سال: پابندیاں اور بدلتی صورتحال
افغانستان میں طالبان حکومت اپنے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر تقاریب منعقد کر رہی ہے، جبکہ عوامی زندگی پر سخت پابندیاں مسلسل برقرار ہیں۔ بین الاقوامی برادری خواتین کے حقوق اور تعلیم کے حوالے سے طالبان کی پالیسیوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت اپنے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر مختلف تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے، تاہم یہ سنگ میل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک بھر میں عام شہریوں کی روزمرہ کی زندگی پر پابندیوں کا دائرہ کار مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔ اگست 2021 میں کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے ایک سخت گیر نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ ان پانچ سالوں کے دوران حکومتی سطح پر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن عملی طور پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے عالمی اداروں کی رپورٹس تشویشناک ہیں۔
سب سے زیادہ اثرات خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ طالبان نے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم اور یونیورسٹیوں میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلنے اور کام کرنے کے حوالے سے بھی انتہائی سخت ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔ حال ہی میں نافذ کیے گئے نئے اخلاقی قوانین کے تحت خواتین کی آوازوں کو عوامی مقامات پر بلند کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ طالبان حکومت اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرے تاکہ افغانستان کو عالمی تنہائی سے نکالا جا سکے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی ممکن ہو۔
اقتصادی لحاظ سے بھی افغانستان کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں اور بیرونی امداد کی بندش کے باعث ملک کی معیشت اب بھی بحران کا شکار ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان حکومت کا اصرار ہے کہ وہ ملکی معیشت کو خود کفیل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم روزگار کے محدود مواقع اور غربت کی بلند شرح نے لاکھوں افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں طالبان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی حکومتی پالیسیوں کو معتدل بنانا ہو گا تاکہ وہ بین الاقوامی برادری کا اعتماد بحال کر سکیں اور ملک میں استحکام لانے کے لیے درکار بیرونی تعاون حاصل کر سکیں۔