Technology
کینسر کی تشخیص میں کتوں اور اے آئی کا استعمال: ڈاگنسس سٹارٹ اپ کی کامیابی
بنگلورو میں قائم ڈاگنسس نامی ایک سٹارٹ اپ نے کینسر کی جلد تشخیص کے لیے کتے کی سونگھنے کی صلاحیت اور جدید مصنوعی ذہانت کو ایک ساتھ استعمال کرنے کا انوکھا تجربہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ سانس کے نمونوں کے ذریعے بیماری کی موجودگی کا سراغ لگانے کے لیے ٹرائلز کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
بنگلورو میں قائم ایک جدید سٹارٹ اپ 'ڈاگنسس' (Dognosis) نے طبی دنیا میں ایک نیا اور حیران کن تجربہ شروع کیا ہے، جس میں کینسر کی ابتدائی علامات کو پکڑنے کے لیے کتوں کی سونگھنے کی غیر معمولی صلاحیت کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس منفرد پروجیکٹ کا مقصد سانس کے نمونوں کے تجزیے سے انسانی جسم میں موجود کینسر کے خلیات کی بو کو پہچاننا ہے۔ ڈاکٹرز اور محققین طویل عرصے سے اس بات سے واقف ہیں کہ کتوں کی سونگھنے کی حس انتہائی تیز ہوتی ہے، اور اب اسی صلاحیت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر ایک قابل اعتماد تشخیص کا نظام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پروجیکٹ بنیادی طور پر مریضوں کی سانس کے نمونوں پر کام کرتا ہے، جہاں تربیت یافتہ کتے بیماری کی مخصوص بو کا سراغ لگاتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز ان نمونوں کا تجزیہ کر کے نتائج کو مزید درست بناتے ہیں۔ ڈاگنسس کے مطابق، یہ طریقہ کار کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان کینسرز کے لیے جن کی علامات بہت دیر سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سٹارٹ اپ کا مقصد کینسر کو اس کے ابتدائی مرحلے پر روکنا ہے تاکہ علاج کے کامیابی کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔
تاہم، ماہرین اور سٹارٹ اپ کی انتظامیہ نے اس پر محتاط رویہ اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی ایک آزمائشی عمل ہے اور اسے مکمل طور پر حتمی تشخیصی ٹیسٹ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ ٹیکنالوجی فی الحال پری اسکریننگ (prescreening) کے طور پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد مریضوں کو طبی ماہرین کے پاس بروقت بھیجنا ہے۔ سائنسی حلقوں میں اس طریقہ کار کو سراہا جا رہا ہے لیکن اس کی کلینیکل تصدیق کے لیے مزید وسیع پیمانے پر ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
مستقبل میں اگر یہ پروجیکٹ اپنے ٹرائلز میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ کینسر کے علاج کے طریقہ کار میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔ سستی اور غیر حملہ آور (non-invasive) تشخیص کی فراہمی طبی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور ڈاگنسس کا یہ انوکھا اقدام اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک امید افزا قدم معلوم ہوتا ہے۔ فی الحال، یہ سٹارٹ اپ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اپنے اے آئی ماڈل کو مزید تربیت دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ اس کی درستگی کو عالمی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔