LIVE
Loading Breaking News...

نیپال: سائبر کرائم کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ

News Image
نیپال میں گزشتہ مالی سال کے دوران پولیس کے پاس سائبر کرائم کی 20 ہزار 500 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کا غلط استعمال دھوکہ دہی اور دیگر جرائم میں اضافے کا اہم سبب ہے۔
نیپال میں گزشتہ ایک سال کے دوران سائبر کرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیپال پولیس کے سینٹرل سائبر بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران سائبر کرائم سے متعلق 20 ہزار 500 سے زائد شکایات درج کرائی گئی ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے واقعات نے جہاں عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے، وہیں پولیس اور متعلقہ اداروں کے لیے بھی سیکیورٹی کے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی جرائم پیشہ عناصر نے بھی اپنے طور طریقے بدل لیے ہیں، جس کے نتیجے میں آن لائن پلیٹ فارمز اب مجرمانہ سرگرمیوں کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، درج کی جانے والی شکایات میں سب سے زیادہ تعداد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات کی ہے۔ اس میں فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس کے ذریعے ہراسانی، بلیک میلنگ، اور جعلی آئی ڈیز بنا کر رقوم بٹورنے کے کیسز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، آن لائن خریداری کے نام پر شہریوں کو لوٹنے اور بینکنگ فراڈ کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کو نامعلوم لنکس بھیج کر ان کی ذاتی معلومات اور بینکنگ تفصیلات چوری کرنے کے جدید طریقے بھی اب ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ حکام نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے عوام سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لوگ کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں اور اپنی ذاتی معلومات کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں۔ حکومت کی جانب سے سائبر کرائم کے تدارک کے لیے تفتیشی عمل کو بہتر بنانے اور سائبر سیکیورٹی قوانین کو سخت کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، عوامی آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ عام شہریوں کو آن لائن تحفظ کے جدید اصولوں سے روشناس کرایا جا سکے اور انہیں ڈیجیٹل دنیا میں پیش آنے والے خطرات سے بچایا جا سکے۔