LIVE
Loading Breaking News...

ایلن ٹورنگ کی مصنوعی ذہانت کے بارے میں تاریخی پیشگوئی

News Image
کمپیوٹر سائنس کے بانی ایلن ٹورنگ نے دہائیوں قبل ہی مشینوں کے سوچنے کی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو بھانپ لیا تھا۔ ان کی بصیرت آج کے دور میں حقیقت کا روپ دھار چکی ہے جہاں ٹیکنالوجی انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔
جدید کمپیوٹر سائنس کے بانی ایلن ٹورنگ کا نام تاریخ میں ایک ایسے مفکر کے طور پر درج ہے جس نے ٹیکنالوجی کے ارتقاء کو اس وقت دیکھا جب دنیا اس کے تصور سے بھی کوسوں دور تھی۔ ایلن ٹورنگ کا یہ قول کہ 'مجھے یقین ہے کہ صدی کے اختتام تک الفاظ کا استعمال اور عام تعلیم یافتہ لوگوں کی رائے تبدیل ہو جائے گی'، اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور مشینوں کی سوچنے کی صلاحیت کے بارے میں کتنی گہری بصیرت رکھتے تھے۔ ان کی یہ پیشگوئی محض ایک قیاس آرائی نہیں تھی بلکہ انسانی دماغ اور مشین کے مابین فرق کو مٹانے کی ایک سائنسی جستجو تھی۔ ایلن ٹورنگ کا ماننا تھا کہ مشینیں ایک ایسے مقام تک پہنچ سکتی ہیں جہاں وہ انسانی ذہانت کا مقابلہ کر سکیں اور معاشرہ آہستہ آہستہ ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے گا۔ آج کے دور میں جب ہم چیٹ جی پی ٹی، خود کار گاڑیوں اور پیچیدہ الگورتھمز کے درمیان رہ رہے ہیں، تو ٹورنگ کی یہ باتیں حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جس ارتقائی سفر کی نشاندہی کی تھی، اس نے نہ صرف تکنیکی میدان میں انقلاب برپا کیا ہے بلکہ سماجی اور اخلاقی رویوں کو بھی پوری طرح تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرے نے اب مصنوعی ذہانت کو نہ صرف قبول کر لیا ہے بلکہ اسے اپنی روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ ٹورنگ کی یہ دور اندیشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک عظیم سائنسدان صرف آج میں نہیں جیتا بلکہ وہ آنے والے زمانوں کے بدلتے ہوئے منظر نامے کو پہلے ہی دیکھ لیتا ہے۔ اگرچہ ان کے دور میں ٹیکنالوجی کی حدود محدود تھیں، مگر ان کے نظریات نے آج کے جدید دور کی بنیاد رکھی۔ آج دنیا بھر کے سائنسدان ٹورنگ کے ان ہی تصورات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ ایسی مصنوعی ذہانت تیار کی جا سکے جو انسان کی مددگار ثابت ہو۔ ان کی وراثت آج بھی جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے الفاظ آج کی ڈیجیٹل دنیا کا بیانیہ بن چکے ہیں۔