LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں خواتین کی فلاحی تنظیموں کا مستقبل خطرے میں

News Image
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'یو این ویمن' نے انتباہ جاری کیا ہے کہ طالبان کے زیر انتظام افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد فراہم نہ کی گئی تو اگلے ایک سال کے اندر نصف سے زائد ادارے اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'یو این ویمن' کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیمیں انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہی ہیں۔ مالی وسائل کی شدید کمی اور پابندیوں کے باعث یہ تنظیمیں اپنے روزمرہ کے امور چلانے میں ناکام ہوتی جا رہی ہیں، جس سے لاکھوں افغان خواتین کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری نے ان تنظیموں کی فوری معاونت نہ کی تو اگلے ایک سال کے اندر نصف سے زائد ادارے اپنا کام بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی تنظیمیں نہ صرف خواتین کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہیں بلکہ وہ سماجی تحفظ کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی بندش کا مطلب یہ ہوگا کہ افغان خواتین کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ سماجی اور معاشی طور پر مزید تنہائی کا شکار ہو جائیں گی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں کے باوجود ان تنظیموں کا جاری رہنا ناگزیر ہے تاکہ انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو کسی نہ کسی حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ عالمی برادری اور امدادی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر افغان خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں۔ یو این ویمن نے واضح کیا ہے کہ یہ تنظیمیں ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہیں جہاں افغان خواتین اپنی آواز بلند کر سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکتی ہیں۔ اگر ان تنظیموں کو خاموش کر دیا گیا تو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں خواتین کے حقوق کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اقوام متحدہ سفارتی سطح پر بھی کوششیں کر رہی ہے تاکہ ان تنظیموں کے لیے ایک محفوظ کام کرنے کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔ افغان خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امداد بند ہونے کا مطلب صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ہزاروں خواتین کی امیدوں کا دم توڑ جانا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کس حد تک ان تنظیموں کی مدد کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔