LIVE
Loading Breaking News...

کیمبرج کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی پراسرار موت، تفصیلات سامنے آ گئیں

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور پلجیرزم کے الزامات کی زد میں رہنے والے جیسن آرڈے جنوبی لندن میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ان کے اہل خانہ نے اس المناک واقعے کے پیچھے ان کے خلاف چلائی گئی ہراساں کرنے کی مہم کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور ماہر تعلیم جیسن آرڈے، جو حال ہی میں پلجیرزم (ادبی چوری) کے ایک ہائی پروفائل اسکینڈل کے مرکز میں تھے، جنوبی لندن میں اپنے گھر پر مردہ حالت میں پائے گئے۔ 41 سالہ آرڈے کو جمعہ کی سہ پہر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد پولیس نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈیبورا پرینٹس نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق موت مشکوک نہیں ہے تاہم اسے غیر متوقع قرار دیا گیا ہے۔ جیسن آرڈے، جو 2023 میں کیمبرج کے سب سے کم عمر سیاہ فام پروفیسر بنے تھے، کو اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں چوری شدہ مواد شامل کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔ ان الزامات کے بعد برطانوی میڈیا کے ایک حصے اور دائیں بازو کے ناقدین نے ان کی تعلیمی قابلیت پر سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ انہوں نے تنوع اور شمولیت (DEI) کی پالیسیوں کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ آرڈے نے 5 اگست کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک مشکل دور کا خاتمہ ہے، تاہم انہوں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف منظم مہم قرار دیا تھا۔ آرڈے کے اہل خانہ نے ان کی موت کے بعد ایک جذباتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ جیسن کو ایک منظم 'ہراساں کرنے کی مہم' کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ پر مبنی مہم کا دباؤ ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا تھا، جو کہ ایک شریف النفس انسان تھے۔ دریں اثنا، برطانوی وزیر تعلیم لوسی پاول نے بھی ان کی موت پر صدمے کا اظہار کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوگوار خاندان کی پرائیویسی کا احترام کریں۔ واضح رہے کہ جیسن آرڈے کے خلاف تنازعہ تب شروع ہوا جب ان کے ایک ساتھی ماہر تعلیم نے ان کے مقالے کے کچھ حصوں کو دیگر کاموں کی نقل قرار دیا تھا۔ اس معاملے نے کیمبرج یونیورسٹی کے اندر اور باہر تعلیمی حلقوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ جہاں کچھ افراد نے ان کی تقرری پر ہی سوالات اٹھائے، وہیں کچھ نے ان کی حمایت میں خطوط بھی لکھے۔ اب یہ معاملہ ایک قانونی فائل کی صورت میں کورونر کے پاس بھیجا جائے گا، جبکہ یونیورسٹی کی جانب سے اس پورے معاملے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔