World
بیت الخلا فیس میں صنفی امتیاز: خاتون کی جانب سے سٹی کونسل پر مقدمہ
ایک خاتون نے سٹی کونسل کے خلاف بیت الخلا کے استعمال کے لیے مردوں اور عورتوں سے مختلف فیس وصول کرنے پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ مدعی خاتون کا موقف ہے کہ یہ عمل صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ایک اہم قانونی پیش رفت کے دوران، ایک خاتون نے سٹی کونسل کے خلاف بیت الخلاء کے استعمال پر صنفی امتیاز برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ کونسل کی جانب سے مردوں اور عورتوں کے لیے بیت الخلاء کے استعمال کی فیس میں واضح فرق رکھا گیا ہے، جو کہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ مساوات کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ اس مقدمے نے مقامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جس میں عوامی سہولیات کی فراہمی میں صنفی امتیاز کے معاملات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
خاتون نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ کونسل کی یہ پالیسی بلا جواز ہے اور اس کا مقصد صرف خواتین کو مالی طور پر زیادہ بوجھ میں ڈالنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عوامی بیت الخلاء ایک بنیادی شہری سہولت ہے، جس کے استعمال پر اس طرح کی امتیازی فیس عائد کرنا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کونسل اس پالیسی کو فوری طور پر تبدیل کرے اور مستقبل میں تمام شہریوں کے لیے یکساں فیس کا نظام نافذ کیا جائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ کیس مستقبل میں دیگر مقامی حکومتوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے جہاں اسی طرح کے متنازع قوانین موجود ہیں۔
دوسری جانب سٹی کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فیسوں کا تعین لاگت اور سہولیات کی نوعیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ صنفی امتیاز کی بنیاد پر۔ کونسل نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ خواتین کے بیت الخلاء میں اضافی سہولیات اور دیکھ بھال کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے فیسوں میں معمولی فرق رکھا گیا ہے۔ تاہم، سماجی کارکنوں اور حقوق نسواں کی تنظیموں نے کونسل کے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'فرسودہ عذر' قرار دیا ہے۔
اب یہ معاملہ عدالت کے روبرو ہے جہاں جج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا کونسل کی فیسوں کی پالیسی واقعی صنفی امتیاز پر مبنی ہے یا اس کے پیچھے انتظامی وجوہات کارفرما ہیں۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس مقدمے کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس کے فیصلے سے عوامی مقامات پر سہولیات کے اخراجات کے حوالے سے نئی حکمت عملی مرتب ہو سکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کو اپنے شواہد پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں اور سماعت آئندہ چند ہفتوں تک متوقع ہے۔