LIVE
Loading Breaking News...

یوتھ اسپورٹس لیگز میں بچوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا کا غلط استعمال

News Image
ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یوتھ اسپورٹس لیگز بچوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کر کے منافع کے لیے تھرڈ پارٹی کمپنیوں کو فروخت کر رہی ہیں۔ والدین کی جانب سے بچوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
چِلڈرن ہیلتھ ڈیفنس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ نے کھیلوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ میں یہ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ نوجوانوں کی مختلف اسپورٹس لیگز اب بچوں کے لیے ڈیجیٹل شناخت یعنی ڈیجیٹل آئی ڈیز کو لازمی قرار دے رہی ہیں۔ اس عمل کے دوران بچوں کا حساس بائیو میٹرک ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے، جس میں ان کے فنگر پرنٹس، چہرے کی پہچان یا دیگر بائیو میٹرک تفصیلات شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ اقدامات بظاہر سیکورٹی اور انتظام کے نام پر کیے جا رہے ہیں، لیکن ان کے پیچھے چھپے تجارتی عزائم نے والدین اور پرائیویسی کے ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ لیگز صرف ڈیٹا اکٹھا کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتیں بلکہ اس حساس معلومات کو تیسرے فریق یعنی تھرڈ پارٹی وینڈرز کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ اس ڈیٹا کا مقصد منافع کمانا ہے، جہاں نجی کمپنیاں اس معلومات کو کمرشل مقاصد، اشتہارات اور پروفائلنگ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ سارا عمل ان بچوں کی مرضی کے بغیر کیا جا رہا ہے جو کھیلوں کے میدان میں اپنے شوق کی تکمیل کے لیے آتے ہیں۔ بائیو میٹرک معلومات کا اس طرح غلط استعمال بچوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو طویل مدت کے لیے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نجی معلومات کا تحفظ ہر معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کھیلوں کے اداروں کو اس بات کی اجازت دے دی گئی کہ وہ بچوں کے ڈیٹا کو منافع کا ذریعہ بنائیں تو مستقبل میں یہ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کھیلوں کی ایسی لیگز میں داخل کرواتے وقت ڈیٹا کی پالیسیوں کا بغور مطالعہ کریں اور ان سے پوچھیں کہ ان کے بچوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا کہاں استعمال ہو رہا ہے۔ اس معاملے پر اب مختلف حلقوں کی جانب سے ضوابط سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حکومتوں اور ٹیکنالوجی ریگولیٹرز کو چاہیے کہ وہ اسکولوں اور کھیلوں کے اداروں میں بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سخت قوانین کا اطلاق کریں۔ صرف منافع کی خاطر بچوں کی پرائیویسی کو داؤ پر لگانا اخلاقی طور پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، اور اس حوالے سے فوری اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔