World
امریکہ کا ڈرونز پر 100 فیصد ٹیرف کا فیصلہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 55 پونڈ سے زائد وزنی درآمدی ڈرونز اور متعلقہ آلات پر 100 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کر کے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی دفاع اور قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ایک اہم پالیسی فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ 13 اگست کو جاری کردہ ایک صدارتی اعلامیے کے مطابق، امریکہ اب 55 پونڈ سے زائد وزنی درآمدی ڈرونز، ڈاکنگ اسٹیشنز اور ایسے تمام آلات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا جو ہتھیاروں کے طور پر یا جاسوسی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام غیر ملکی دشمنوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کو روکنے اور ملکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی تجارتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اس نئے حکومتی فیصلے کا بنیادی مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کو ختم کرنا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے حوالے سے جو امریکی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے دنیا بھر میں جاسوسی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے سخت حفاظتی اقدامات اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ نگرانی کے آلات اور ہتھیاروں کے طور پر استعمال ہونے والے ڈرونز اب امریکی سرزمین پر مہنگے ہوں گے، جس سے مقامی مینوفیکچررز کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی کمپنیاں امریکی منڈی میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے سے قاصر رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام امریکہ کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور بیرونی ممالک کی مداخلت کو محدود کرنا ہے۔ اس 100 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے ان غیر ملکی اداروں کی کمر ٹوٹ جائے گی جو امریکی منڈی میں اپنے ڈرونز برآمد کرتے رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پالیسی سے جہاں دفاعی شعبے میں امریکی خود مختاری بڑھے گی، وہیں عالمی سطح پر ٹیرف وار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر قومی تحفظ کی خاطر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر ملکی دشمن کو امریکی حدود میں نگرانی یا تخریبی کارروائیوں کا موقع نہ مل سکے۔