LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بگ ٹیک کمپنیوں کے مالیاتی خطرات

News Image
جیفریز کے تجزیہ کار کرس وڈ نے خبردار کیا ہے کہ بگ ٹیک کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر اربوں ڈالر کے اخراجات ان کے نقد بہاؤ کو شدید دباؤ میں ڈال رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ، ایمیزون، الفابیٹ اور میٹا جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مستقبل کے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی مالیاتی پوزیشن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں مائیکروسافٹ، ایمیزون، الفابیٹ اور میٹا شامل ہیں، کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دوڑ نے عالمی مالیاتی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جیفریز کے ممتاز تجزیہ کار کرس وڈ نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ان کمپنیوں کا مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر خرچ کیا جانے والا 165 ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ ان کے فری کیش فلو پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہا ہے۔ اس دوڑ میں شامل کمپنیاں نہ صرف اپنے موجودہ منافع کو داؤ پر لگا رہی ہیں بلکہ ان کے اخراجات ان کی آمدنی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ کرس وڈ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دوسری سہ ماہی کے دوران ان چار بڑی کمپنیوں کا مجموعی فری کیش فلو محض 7 ارب ڈالر تک محدود رہا، جبکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اخراجات کی مالیت 165 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ کمپنیاں مستقبل کے ممکنہ منافع کے لیے اپنے موجودہ مالیاتی ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل عرصے تک اسی رفتار سے سرمایہ کاری جاری رکھتی ہیں تو ان کی مالیاتی ساکھ اور شیئر ہولڈرز کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بگ ٹیک کمپنیوں کا انحصار ان اداروں پر بڑھ رہا ہے جو فی الحال صرف نقد رقم جلانے والے (Cash-burning) مراکز بنے ہوئے ہیں، جن میں اوپن اے آئی (OpenAI) سر فہرست ہے۔ کرس وڈ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو منافع بخش بنانے کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں اربوں ڈالر کا جو قمار کھیلا جا رہا ہے، اس کے نتائج فوری طور پر برآمد نہیں ہوں گے۔ سرمایہ کاروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اے آئی کی اس اندھی دوڑ میں ہر کمپنی فاتح نہیں بن سکے گی اور مالیاتی بوجھ کے نیچے دبنے والی کمپنیوں کو مستقبل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک نئے 'ببل' کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کے اہداف میں اضافہ کر رہی ہیں، ویسے ویسے مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت بھی بڑھ رہی ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے شعبے سے متوقع منافع اور پیداواریت میں اضافہ نہ ہوا تو بگ ٹیک کمپنیوں کو اپنے مالیاتی ماڈلز پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ کمپنیاں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتی ہیں یا اے آئی کی دوڑ میں اپنے مالیاتی استحکام کو مکمل طور پر خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔