LIVE
Loading Breaking News...

انسان اور چمپینزی کی نسل کشی: سائنسی تجزیہ

News Image
سائنسی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ انسان اور چمپینزی کے درمیان جینیاتی خلیوں کے فرق کی وجہ سے ہائبرڈ اولاد کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ دونوں پرجاتیوں کے ڈی این اے میں موجود نمایاں اختلافات ایسی کسی بھی حیاتیاتی ملاپ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ماہرین حیاتیات اور جینیات دانوں کی جانب سے طویل عرصے سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا انسان اور چمپینزی کے ملاپ سے کسی ایسی مخلوق کی پیدائش ممکن ہے جو دونوں کی خصوصیات رکھتی ہو؟ اس سوال کا واضح اور حتمی سائنسی جواب یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ناممکن ہے۔ اگرچہ انسان اور چمپینزی کا ڈی این اے تقریباً 98 سے 99 فیصد تک آپس میں ملتا جلتا ہے، تاہم باقی ماندہ ایک یا دو فیصد جینیاتی فرق اتنا گہرا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان حیاتیاتی ہم آہنگی کو ختم کر دیتا ہے۔ اس ناممکن ہونے کی سب سے بڑی وجہ کروموسومز کی تعداد میں فرق ہے۔ انسانوں میں کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں، جبکہ چمپینزی میں 24 جوڑے پائے جاتے ہیں۔ یہ جینیاتی تفاوت کسی بھی قسم کے تولیدی عمل کو کامیاب ہونے سے روک دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر لیبارٹری کی سطح پر بھی کوئی مصنوعی کوشش کی جائے تو بھی خلیوں کی تقسیم اور جنین کی نشوونما کے لیے درکار جینیاتی مطابقت میسر نہیں آتی، جس کے نتیجے میں کوئی بھی جاندار پیدا نہیں ہو سکتا۔ مزید برآں، ارتقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان اور چمپینزی لاکھوں سال قبل ایک مشترکہ جد امجد سے الگ ہوئے تھے۔ اس طویل عرصے کے دوران دونوں نے اپنے ڈی این اے کو مختلف طریقوں سے ڈھالا ہے تاکہ وہ اپنے اپنے ماحول کے مطابق زندہ رہ سکیں۔ اس لیے ان کے درمیان حیاتیاتی فرق اب اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ وہ ایک ہی نسل کے طور پر تولیدی عمل مکمل کرنے کے اہل نہیں رہے۔ یہ محض ایک سائنسی نظریہ نہیں بلکہ جینیاتی تجربات سے ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ان دونوں پرجاتیوں کے درمیان کسی بھی قسم کی مخلوط اولاد کا تصور سائنسی لحاظ سے غلط ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہائبرڈ جانداروں کی تخلیق کے حوالے سے جو بھی افواہیں یا قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں، ان کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ فطرت نے دونوں پرجاتیوں کے لیے الگ الگ حیاتیاتی نظام وضع کیے ہیں جو ایک دوسرے سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے۔ جدید سائنس نے اس معاملے پر تمام شکوک و شبہات کو ختم کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ انسان اور چمپینزی اپنی جینیاتی ساخت کی وجہ سے کبھی بھی ایک جیسی اولاد پیدا نہیں کر سکتے۔