LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحری جہاز پر اہلکاروں کی حالت زار: ٹرمپ کا ردعمل

News Image
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے کی خراب حالات پر اٹھنے والے خدشات کو ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے۔ اس طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود اہلکاروں کو شدید ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن نامی طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات امریکی بحریہ کے عملے کی خراب صورتحال اور طویل سمندری تعیناتی سے متعلق اٹھنے والے خدشات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب متعدد رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ جہاز پر موجود اہلکار انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور کچھ نے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی ہے۔ عسکری حلقوں اور کانگریس کے اراکین نے ان حالات کو انسانی بحران قرار دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فوجی خاندانوں کی جانب سے قائم مقام نیوی سیکریٹری کے ساتھ ہونے والی ایک تلخ میٹنگ میں ان حالات کی سنگینی کو اجاگر کیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نو ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں رہنے کی وجہ سے عملے کی ذہنی اور جسمانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کی ذمہ داری عسکری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ان تمام شکایات کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے انہیں سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس ردعمل نے حکومتی اور عسکری حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا بحری بیڑے پر موجود عملے کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر امریکا کی جانب سے نئے طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے پہلے سے موجود عملے پر مزید دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کی تعیناتی، مناسب آرام کی کمی اور مسلسل جنگی حالات کی تیاریوں نے اہلکاروں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ اور سابق صدر کی جانب سے ان خدشات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عملے کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور جہاز پر موجود حالات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے۔ یہ صورتحال آنے والے وقتوں میں امریکی دفاعی پالیسی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر رہی ہے۔