LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی پر پاکستان کی سفارتی کوششیں اور اسلام آباد میمورنڈم

News Image
پاکستان نے خطے میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو واحد حل قرار دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم امن اور استحکام کے لیے ٹھوس لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری اور بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم اس حوالے سے ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے جو دونوں ممالک کو تناؤ کم کرنے اور خطے کو بڑے تنازعہ سے بچانے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کرتا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کا ماننا ہے کہ خطے میں استحکام کے بغیر معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، اس لیے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار نے بھی زور دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی جارحانہ اقدام کے بجائے پرامن بقائے باہمی کی پالیسی کو ترجیح دیتا ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین تناؤ نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے غیر مستحکم کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت اور سکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میمورنڈم کے تحت طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے خطے کو جنگ جیسی صورتحال سے نکالا جا سکتا ہے۔ دریں اثنا، امریکی حکام اور سفارتی نمائندوں کے ساتھ بھی پاکستان کی جانب سے مسلسل رابطے جاری ہیں تاکہ خطے کی صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ اسلام آباد نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کریں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور اسے روکنے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومتِ پاکستان اس بات پر پرعزم ہے کہ وہ خطے میں قیامِ امن کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی تاکہ خطے کے عوام کو کسی بھی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔