LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی حاملہ خاتون کا بچہ اسرائیلی چوکی پر روکے جانے پر ضائع

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک حاملہ فلسطینی خاتون کو اسرائیلی فوجی چوکی پر بروقت طبی امداد کے لیے جانے سے روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا بچہ ضائع ہو گیا۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر قابض فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کو درپیش طبی اور انسانی بحران کو اجاگر کر دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک اور اندوہناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک حاملہ فلسطینی خاتون کو اسرائیلی فوجی چوکی پر گھنٹوں روکے جانے کی وجہ سے شدید طبی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق خاتون کو زچگی کی تکلیف کے دوران اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم راستے میں قائم قابض فوج کی ایک چوکی پر اہلکاروں نے ان کی ایمبولینس اور گاڑی کو بلاجواز روک لیا۔ بار بار التجا کرنے اور خاتون کی نازک حالت کا حوالہ دینے کے باوجود اسرائیلی فوجیوں نے انہیں آگے جانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اس غیر انسانی تاخیر کی وجہ سے خاتون کو بروقت طبی امداد اور آپریشن کی سہولت میسر نہ آ سکی، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنے نو مولود بچے کو کھو دیا۔ مقامی طبی ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر بروقت اسپتال پہنچا دیا جاتا تو اس معصوم جان کو بچایا جا سکتا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس المناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے جنگی جرائم کے زمرے میں قرار دیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی چوکیوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہو یا طبی ہنگامی صورتحال میں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی حاملہ خواتین، بیماروں اور بوڑھوں کو چیک پوسٹوں پر گھنٹوں کھڑا رکھنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار اداروں نے اس واقعے کی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا احتساب کیا جا سکے اور معصوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کا سلسلہ روکا جا سکے۔