LIVE
Loading Breaking News...

شانگلا میں پی ٹی آئی کا اندرونی خلفشار اور رہنماؤں کے الزامات

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔ سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کے درمیان الزامات اور مطالبات نے جماعتی انتشار کو مزید ظاہر کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اس وقت اندرونی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے، اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شانگلا میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی نے اس کی سیاسی پوزیشن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مقامی سطح پر بڑھتی ہوئی رسہ کشی اور رہنماؤں کے درمیان دوریوں نے کارکنان کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو پارٹی کو مستقبل کے سیاسی مقابلوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے اندر قومی سطح پر بھی اختلافات گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حال ہی میں تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کے درمیان تلخ بیانات اور الزامات کا سلسلہ سامنے آیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے عوامی سطح پر ایک دوسرے پر تنقید نے پارٹی کے اتحاد کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، سلمان اکرم راجہ نے بانی چیئرمین عمران خان تک طبی رسائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلوں اور سینیٹ سے ہٹانے کے اختیارات کے حوالے سے جو باتیں کی جا رہی ہیں ان کی کوئی قانونی یا انتظامی حیثیت نہیں ہے۔ اندرونی کشمکش کی یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئیپہلے ہی حکومتی دباؤ اور مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ پارٹی صفوں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف حکومتی پالیسیوں کے خلاف مؤثر مزاحمت میں رکاوٹ آ رہی ہے بلکہ کارکنان کا مورال بھی متاثر ہو رہا ہے۔ شانگلا جیسے اہم ضلع میں جہاں پارٹی کا ووٹ بینک مضبوط سمجھا جاتا تھا، دھڑے بندی کی وجہ سے سیاسی گراوٹ کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کو فوری طور پر اندرونی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اگر پارٹی کے سینیئر رہنما ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک بیانیے پر متفق نہ ہوئے، تو نچلی سطح پر کارکنان مزید مایوس ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ پارٹی ہائی کمان اس اندرونی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور شانگلا سمیت دیگر اضلاع میں پارٹی کو کیسے دوبارہ منظم کیا جاتا ہے۔