World
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا اسرائیلی حملوں کے خلاف عزم اور مزاحمت
مغربی کنارے کے علاقے التوانی میں آباد کاروں کی جانب سے گھروں اور ایک مسجد کو نذر آتش کیے جانے کے باوجود فلسطینیوں نے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انہیں ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کی ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے التوانی میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہودی آباد کاروں نے پرتشدد کارروائیوں کے دوران متعدد فلسطینی گھروں اور ایک مقامی مسجد کو آگ لگا دی۔ اس ہولناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، تاہم مقامی فلسطینیوں نے ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی آبائی زمینوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور یہیں ڈٹے رہیں گے۔
متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں اور مقامی ذرائع کے مطابق، یہ پرتشدد واقعات کسی اتفاقی جھڑپ کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ ایک منظم اور سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد فلسطینی خاندانوں کو خوف زدہ کر کے انہیں اپنی زمینوں سے جبری بے دخل کرنا ہے تاکہ وہاں مزید غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی جا سکے۔ رہائشیوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ وہ نسلوں سے اس زمین پر آباد ہیں اور کسی بھی قیمت پر اپنی پشت پناہی جاری رکھیں گے۔ اس تنازع نے ایک بار پھر مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی بحران کی سنگین تصویر کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں عام شہریوں کو روزمرہ کی بنیاد پر شدید مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی آبادی کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں اور وہ ہر قسم کے چیلنجز کے باوجود اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔