World
۱۰۰ سالہ خاتون کا بچپن کے کھلونوں سے منفرد عجائب گھر
ایک ۱۰۱ سالہ خاتون نے اپنے بچپن کے کھلونے اٹاری سے دریافت کرنے کے بعد انہیں ایک مستقل عجائب گھر کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یہ انوکھا اقدام ماضی کی یادوں کو محفوظ کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک ۱۰۱ سالہ خاتون نے ثابت کر دیا ہے کہ بچپن کی یادیں اور کھلونے انسان کے دل کے کتنے قریب ہوتے ہیں۔ ویل نامی اس خاتون کو اپنے گھر کی پرانی اٹاری کی صفائی کے دوران بچپن کے وہ کھلونے ملے جو انہوں نے دہائیوں پہلے سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ ان کھلونوں کو دیکھ کر ان کے ذہن میں ایک منفرد خیال آیا اور انہوں نے انہیں محض ایک ڈبے میں بند رکھنے کے بجائے دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔
ویل نے اپنے ان تمام قیمتی اور تاریخی کھلونوں کو ایک خاص جگہ پر ترتیب دیا اور باقاعدہ طور پر ایک گڑیا گھر کا عجائب گھر قائم کر دیا۔ اس عجائب گھر میں رکھے گئے ہر کھلौنے کی اپنی ایک تاریخ اور کہانی ہے جو اس دور کے ثقافتی اور سماجی پس منظر کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کھلونوں کی دیکھ بھال اور نمائش کا یہ عمل نہ صرف ویل کے لیے بلکہ آنے والے زائرین کے لیے بھی انتہائی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔
اس عجائب گھر کے قیام کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر پھیلی، لوگوں کی بڑی تعداد اسے دیکھنے کے لیے پہنچنے لگی۔ زائرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتے ہیں اور ڈیجیٹل دور میں بچپن کی معصومیت کو یاد دلاتے ہیں۔ ویل کی یہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کسی بھی عمر میں کیا جا سکتا ہے۔