Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کی سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو ہر ممکن امداد اور ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے صوبائی اداروں اور پی ڈی ایم اے کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ملک کے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں میں شہریوں کو ہر ممکنہ مدد اور فوری ریلیف فراہم کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، یہ ہدایات وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ساتھ ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران دی گئیں۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ سیلاب متاثرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی سستی نہ برتی جائے۔
ملاقات کے دوران این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے وزیراعظم کو ملک بھر میں بالخصوص مون سون بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور موسمی حالات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ حصوں میں امدادی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری ہیں اور متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 26 جون سے 14 اگست کے دوران بارشوں اور ان سے جڑے حاداثات میں 155 افراد جاں بحق اور 460 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ صوبائی اداروں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے۔ یاد رہے کہ مون سون کی بارشیں جون سے ستمبر تک جاری رہتی ہیں جو گرمی سے راحت دلانے کے ساتھ پانی کی فراہمی کے لیے اہم ہیں، لیکن دوسری طرف شدید بارشیں اکثر جان لیوا سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا باعث بنتی ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے چناب اور راوی ندیوں سے منسلک نالوں میں 15 سے 21 اگست کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ کر دیا گیا ہے۔